واشنگٹن، 8 مئی (یو این آئی) امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے قریب ہیں، امریکی میڈیا ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ’ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ہو سکتے ہیں۔
میڈیا نے دو امریکی عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس کو یقین ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے، جس سے جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور جس کا مقصد مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے کرنا ہے۔ امریکہ کو توقع ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے کئی اہم نکات پر جواب موصول ہوگا۔ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا، تاہم ذرائع کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے فریقین اس وقت سب سے زیادہ معاہدے کے قریب ہیں۔
معاہدے کی مختلف شقوں کے تحت ایران یورینیم افزودگی روکنے کے لیے عارضی پابندی قبول کرے گا اور امریکہ ایران پر عائد پابندیاں نرم کرنے اور منجمد ایرانی فنڈز میں اربوں ڈالر جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرے گا اور دونوں فریق آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم کریں گے۔ تاہم ایکسیوس کا کہنا ہے کہ اس یادداشت میں شامل کئی نکات ایسے ہیں جو ایک حتمی معاہدے سے مشروط ہوں گے، جس کے باعث دوبارہ جنگ چھڑنے یا ایسی طویل غیر یقینی صورت حال کا امکان برقرار رہے گا جس میں کھلی جنگ تو رک جائے مگر بنیادی مسائل حل نہ ہوں۔
وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہے اور مختلف دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ بعض امریکی حکام اب بھی اس بات پر شکوک رکھتے ہیں کہ ابتدائی معاہدہ بھی ہو پائے گا یا نہیں۔ امریکی حکام اس سے قبل بھی مذاکرات کے مختلف مراحل اور موجودہ جنگ کے دوران معاہدے کے حوالے سے پرامید رہے ہیں، مگر اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم دو امریکی حکام نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں نئے اعلان کردہ آپریشن سے پیچھے ہٹنے اور نازک جنگ بندی کو ٹوٹنے سے بچانے کا فیصلہ مذاکرات میں پیش رفت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی ایم او یو پر صدر ٹرمپ کے نمائندوں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر، اور متعدد ایرانی حکام کے درمیان براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں۔ موجودہ شکل میں یہ معاہدہ خطے میں جنگ کے خاتمے اور 30 روزہ مذاکراتی دور کے آغاز کا اعلان کرے گا، جس کے دوران آبنائے ہرمز کھولنے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے، اور امریکی پابندیاں اٹھانے پر تفصیلی معاہدہ طے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد یا جنیوا میں ہو سکتے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق، ان 30 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیاں اور امریکی بحری ناکہ بندی مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے تو امریکی افواج دوبارہ ناکہ بندی نافذ کرنے یا فوجی کارروائی بحال کرنے کی مجاز ہوں گی۔ حکام کے مطابق یورینیم افزودگی پر عارضی پابندی کی مدت پر مذاکرات جاری ہیں۔ تین ذرائع کے مطابق یہ مدت کم از کم 12 سال ہوگی جب کہ ایک ذریعے نے 15 سال کو زیادہ ممکنہ مدت قرار دیا۔
ایران نے 5 سالہ پابندی کی تجویز پیش کی تھی جب کہ امریکہ نے 20 سال کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکہ ایک ایسی شق شامل کرنا چاہتا ہے جس کے تحت اگر ایران افزودگی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو پابندی کی مدت مزید بڑھ جائے۔
پابندی ختم ہونے کے بعد ایران کو 3.67 فی صد تک کم سطح کی افزودگی کی اجازت ہوگی۔ معاہدے کے تحت ایران اس بات کا بھی وعدہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی ہتھیار سازی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہوگا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق فریقین اس شق پر بھی بات کررہے ہیں کہ ایران زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو فعال نہیں کرے گا۔ ایران مزید سخت معائنہ جاتی نظام قبول کرے گا، جس میں اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز کے اچانک معائنے بھی شامل ہوں گے اور اس کے بدلے امریکہ ایران پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گا اور دنیا بھر میں منجمد ایرانی فنڈز میں سے اربوں ڈالر مرحلہ وار جاری کرے گا۔
معاملے سے باخبر دو ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جو امریکہ کی ایک اہم ترجیح رہی ہے اور جسے تہران اب تک مسترد کرتا آیا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یہ مواد امریکہ منتقل کیا جائے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو کہا ’’ضروری نہیں کہ پورا معاہدہ ایک ہی دن میں تحریر کر لیا جائے۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ اور تکنیکی معاملہ ہے۔ لیکن ہمیں ایک ایسا سفارتی حل درکار ہے جو واضح کرے کہ وہ کن موضوعات پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ابتدائی مرحلے میں کس حد تک رعایت دینے پر آمادہ ہیں تاکہ یہ عمل نتیجہ خیز بن سکے۔‘‘ تاہم روبیو نے ایران کی اعلیٰ قیادت کے بعض افراد کو ’’ذہنی طور پر پاگل‘‘ بھی قرار دیا اور کہا کہ یہ واضح نہیں کہ آیا وہ معاہدہ کریں گے یا نہیں۔








