دبئی ،8مئی (یو این آئی) فضائی سفر اب خواب بن گیا؛ بعض روٹس پر کرایوں میں 500 فیصد تک اضافہ کردیا گیا جبکہ ایئرلائنز نے مسافروں کی تعداد میں کمی کردی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات اب عالمی ہوا بازی کی صنعت پر بھی گہرے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں 80 فیصد سے زائد اضافے نے پوری دنیا میں فضائی سفر کے بحران کو سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث انٹرنیشنل ایوی ایشن انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیول مہنگا ہونے اور فضائی حدود کی بندش کے باعث عالمی سطح پر ایئرلائنز نے اپنے 93 لاکھ (9.3 ملین) مسافر کم کر دیے ہیں۔ قطر ایئرویز نے اپنے مسافروں کی تعداد میں 20 لاکھ کی کمی کی جبکہ اسپرٹ ایئرلائنز امریکہ کی بجٹ ایئرلائن ‘اسپرٹ’ نے مہنگے ایندھن کے بوجھ تلے دب کر اپنے آپریشنز ہی بند کر دیے ہیں۔
فضائی ٹکٹوں کی قیمتیں اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، کچھ بین الاقوامی روٹس پر کرایوں میں 5 گنا تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکہ میں بین الاقوامی پروازوں کے کرائے 16 فیصد اور اندرونِ ملک سفر 24 فیصد تک مہنگا ہو چکا ہے۔ جاپان اور کوریا جیسے ایشیائی ممالک کے لیے سفر کی طلب میں اضافہ تو ہوا ہے، لیکن مہنگائی کے باعث مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ماہرینِ معاشیات اور ایوی ایشن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں جیٹ فیول کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اگر جنگ آج بھی ختم ہوجائے، تب بھی فضائی ٹکٹوں کی قیمتیں معمول پر آنے میں ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ فی الحال عالمی فضائی سفر کا مستقبل مکمل طور پر غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔








