واشنگٹن، 7 مئی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب شدت سے ڈیل چاہتا ہے اور یہ بہت آسان ہوگیا ہے۔
انھوں نے کہا گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی، ایران جوہری پروگرام جاری نہ رکھنے سمیت کئی معاملات پر آمادہ ہو چکا ہے، اب یہ ممکن ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہو جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران سے متعلق ہم اچھی پوزیشن میں ہیں، حالات ٹھیک ہیں، ہم ایران سے وہ حاصل کریں گے جو چاہیے، بس ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔
امریکی صدر نے دہراتے ہوئے کہا ایران کی فضائیہ اور نیوی کو تباہ کر دیا، ایران کے میزائل اور ریڈار ختم کر دیے ہیں، ہم جیت چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پہلی لیول اور دوسری لیول کی قیادت ماری جا چکی ہے، یہ رجیم چینج ہے، پہلے بھی ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی تھی لیکن بعد میں وہ بھول گئے۔
واضح رہے کہ امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، جبکہ ایران جنگ ختم کرنے کی امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
بدھ کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ”یہ بہت ممکن ہے کہ ہم کوئی معاہدہ کر لیں، ایران کے حوالے سے معاملات بہت اچھے چل رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔”
وال سٹریٹ جرنل کی بدھ کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ اس وقت ثالثوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد مذاکرات کا دوبارہ آغاز، جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے۔
یہ مذاکرات ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں شروع ہو سکتے ہیں ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
یاد رہے کہ علاقائی کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔








