ایجنسیز
سرینگر؍۳۰؍اپریل
قید میں بند لوک سبھا رکن شیخ عبدالرشید، المعروف انجینئر رشید، جمعرات کو اپنے علیل والد سے ملاقات کے لیے یہاں پہنچے۔ یہ پیش رفت دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے انہیں ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دیے جانے کے بعد سامنے آئی، حکام نے بتایا۔
جموں و کشمیر کے بارہمولہ سے منتخب رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید جمعرات کی دوپہر سری نگر ہوائی اڈے پر پہنچے اور سیدھا ایس ایم ایچ ایس اسپتال گئے، جہاں ان کے والد زیر علاج ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز انہیں ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دی تھی تاکہ وہ اپنے بیمار والد سے ملاقات کر سکیں۔
جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ اس مدت کے دوران رشید یا تو اسپتال میں اپنے والد سے مل سکتے ہیں یا گھر پر رہ سکتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ کم از کم دو پولیس اہلکار سادہ لباس میں ہر وقت ان کے ساتھ رہیں گے، اور ان کے سفر کے اخراجات رشید برداشت نہیں کریں گے۔ اس ایک ہفتے کے دوران، جب وہ اپنے والد کے ساتھ ہوں گے، قریبی اہلِ خانہ کے علاوہ کسی اور کو ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ حکم عدالت نے اس وقت جاری کیا جب وہ رشید کی اس اپیل پر سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کے۲۴؍ اپریل کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں انہیں عبوری ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
بارہمولہ کے رکنِ پارلیمنٹ، جنہوں نے۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور سجاد لون کو شکست دی تھی، دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں زیر سماعت ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کو فنڈ فراہم کیے۔
رشید۲۰۱۹سے دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے، جب نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انہیں۲۰۱۷ کے دہشت گردی فنڈنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ اکتوبر۲۰۱۹میں چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد، مارچ۲۰۲۲میں خصوصی این آئی اے عدالت نے رشید اور دیگر کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات۱۲۰بی (مجرمانہ سازش)‘۱۲۱(حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنا) اور۱۲۴اے (بغاوت) کے تحت، نیز یو اے پی اے کے تحت دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔ (ایجنسیاں)










