میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ایسا جموں و کشمیر تعمیر کر رہے ہیں جہاں منشیات کی کوئی جگہ نہ ہو:ایل جی سنہا
’کامیابی کا پیمانہ نعروں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ دیہات اورشہروںسے منشیات کا کس حد تک خاتمہ ہوا‘
(ویب ڈسیک)
سرینگر؍۲۵؍اپریل
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ منشیات کے ناسور کے خلاف لڑائی تنہا نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کی مشترکہ کوشش ضروری ہے۔
سنہا سانبہ میں۱۰۰روزہ نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
ایل جی نے کہا’’میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، لیکن یہ جنگ صرف قانون کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ اسے معاشرے کے اندر بیداری، تعاون اور اجتماعی کوششوں سے جیتنا ہوگا۔ ہم ایسا جموں و کشمیر تعمیر کر رہے ہیں جہاں منشیات کی کوئی جگہ نہ ہو۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۱۰۰ روزہ نشہ مکت جموں و کشمیر تحریک آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گی اور یہ ثابت کرے گی کہ جب عوام متحد ہو جائیں تو تاریخ بدل سکتے ہیں۔
سنہا نے زور دے کر کہا کہ ہر پنچایت کو منشیات سے پاک ہونا چاہیے اور ہر پولیس اسٹیشن کو منشیات فروشوں سے پاک بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا’’اگلے۸۵دنوں میں کامیابی کا پیمانہ نعروں یا ریلیوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ دیہات اور شہروں کے محلوں سے منشیات کا کس حد تک خاتمہ ہوا۔ ہر ہفتے نتائج واضح ہونے چاہئیں—کتنے افراد کی بحالی ہوئی، کتنے اسمگلروں کے خلاف مقدمات درج ہوئے، کتنے جعلی مراکز بند کیے گئے، کتنے کیسز درج ہوئے، کتنی منشیات ضبط کی گئی اور کتنی خواتین کمیٹیاں پنچایتوں اور شہری وارڈز میں قائم ہوئیں۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ اس مہم کا مسلسل جائزہ لینا نہایت ضروری ہے اور ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز اور دیگر ایجنسیاں ہفتہ وار پروگراموں کا جائزہ لیں تاکہ شناخت، کونسلنگ، علاج، بحالی اور سماجی انضمام تک مکمل نظام قائم کیا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کا یہ سنگین بحران ہمسایہ ملک کی جانب سے منظم طریقے سے پھیلایا گیا تاکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کی جا سکے اور سماجی انتشار پیدا کیا جا سکے، اور نارکو دہشت گردوں نے ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کریں اور معاشرے کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قوانین کا اطلاق کریں۔ اگلے۸۵دنوں تک ہمیں اس مہم کی توانائی برقرار رکھنی ہے، اسے یونین ٹیریٹری کے ہر گھر تک پہنچانا ہے اور منشیات کے خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ شرکت، رفتار اور جذبہ انتہائی اہم ہیں کیونکہ منشیات کی لت کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران ہے۔‘‘
سنہا نے مزید کہا کہ یہ تاریخی عوامی تحریک محض سرکاری حکم نہیں بلکہ عوامی عزم کی عکاس ہے، جس میں والدین، بزرگ، اساتذہ اور متاثرہ افراد خود آگے بڑھ کر بیداری پھیلا رہے ہیں۔
ایل جی کاکہنا تھا’’جموں و کشمیر اب منشیات کے خلاف ایک نئے عزم سے روشن ہو چکا ہے۔ یہ امید کی وہ روشنی ہے جو تاریکی کو ختم کرے گی، خوف کو مٹائے گی اور مستقبل کو روشن کرے گی۔ گزشتہ۱۵دنوں میں عوام میں جو تبدیلی میں نے دیکھی ہے وہ کسی معجزے سے کم نہیں‘‘۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے بائیک ریلی کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت سامبا کرکٹ پریمیئر لیگ کا بھی آغاز کیا۔
سنہا نے بڑھتے ہوئے منشیاتی مسئلے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سرحد پار نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے جوڑا، جن کا مقصد معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور نوجوانوں کو نشانہ بنانا ہے۔
ایل جی نے اس بحران کو دہشت گردی اور سماجی بگاڑ کو ہوا دینے کی دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے قوانین کے سخت نفاذ اور عوامی شمولیت پر مبنی مستقل مہم کی ضرورت پر زور دیا۔










