بیروت، 4 اپریل (یواین آئی) لبنانی دارالحکومت بیروت میں ہفتے کے روز زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
فرانس پریس کے نامہ نگار کے مطابق آدھے گھنٹے کے دوران کم از کم دو دھماکے سنے گئے، جن میں سے ایک کے بعد دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر دو فضائی حملے کیے گئے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے، اور جمعہ کو بھی بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر بمباری کی گئی تھی۔
اسرائیلی فوج نے انخلا کی وارننگ جاری کرنے کے چند گھنٹوں بعد انفراسٹرکچر پر حملوں کی تصدیق کی، جبکہ 2 مارچ سے جاری اس جنگ کے باعث ضاحیہ کی بڑی آبادی پہلے ہی نقل مکانی کر چکی ہے۔
جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے مشرقی لبنان کے علاقے مغربی بقاع میں دریائے لیطانی پر واقع اس پل کو بھی نشانہ بنایا جو سحمر اور مشغرہ کے قصبوں کو ملاتا ہے، تاہم پل مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ ان پلوں کو فوجی مقاصد اور اپنے ارکان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی بیانات میں کہا ہے کہ اس نے المطلہ، کریات شمونہ اور مرغلیوت کی بستیوں سمیت ایک اسرائیلی فوجی ہیڈ کوارٹر پر راکٹ حملے کیے ہیں۔
واضح رہے کہ حزب اللہ 2 مارچ سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے، جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کا حصہ ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک افراد کی تعداد 1368 جبکہ زخمیوں کی تعداد 4138 ہو چکی ہے۔








