دبئی، یکم اپریل (یو این آئی) متحدہ عرب امارات (یواے ای) میں اب صرف گولڈن ویزا کے حامل ایرانی شہریوں کو ہی داخلے کی اجازت ہے۔
ایمریٹس ایئرلائن نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے، "ایرانی شہریوں کا داخلہ اور ٹرانزٹ ممنوع ہے۔” ایمریٹس اور اتحاد کے ساتھ ساتھ کم لاگت والی ایئر لائن فلائی دبئی نے بھی اپنی ویب سائٹس پر اسی طرح کے اعلانات کیے ہیں۔
فلائی دبئی نے واضح کیا کہ پابندی کا اطلاق گولڈن ویزا رکھنے والے ایرانی شہریوں پر نہیں ہوتا۔ اپنے پاسپورٹ اور ویزا سیکشن میں، ایئر لائن نے ذکر کیا، "شہریت پر پابندیاں۔ ایرانی شہریوں کو داخلے یا ٹرانزٹ کی اجازت نہیں ہے۔ گولڈن ویزا رکھنے والے ایرانی شہریوں کے داخلے اور ٹرانزٹ کے لیے مستثنیات دی جا سکتی ہیں۔”
یواے ای گولڈن ویزا ایک طویل مدتی رہائشی اجازت نامہ ہے، جو پانچ یا دس سال کے لیے درست ہے۔ یہ سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، سائنسدانوں، اعلیٰ طلباء، اور انتہائی ہنر مند پیشہ ور افراد کو دیا جاتا ہے، جس سے ہولڈرز کو مقامی کفیل کے بغیر یواے ای میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
یہ پیش رفت بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے بعد، ملک نے خطے کے کئی ممالک پر حملوں کے ساتھ جوابی کارروائی کی، جس میں مبینہ طورپر یواے ای سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران نے 393 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ 1,835 ڈرون یو اے ای کی جانب داغے ہیں جس کے نتیجے میں کم ازکم 10 افراد ہلاک اور ایرانی شہریوں سمیت 171 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ یو اے ای حکام نے ایک ایرانی اسپتال، ایرانی اسکولوں، کلب آف ایرانینس، اسلامی آزاد یونیورسٹی کی یو اے ای شاخ اور امام حسین مسجد سمیت ایران سے منسلک متعدد اداروں کے آپریشن کو معطل کردیا ہے۔










