کشمیر کی وادی محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور ماحولیاتی ورثہ ہے، جس کی پہچان اس کے درختوں، باغات اور قدرتی حسن سے جڑی ہوئی ہے۔ ان درختوں میں چنار اور اخروٹ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ دونوں نہ صرف کشمیر کے قدرتی حسن کو چار چاند لگاتے ہیں بلکہ معیشت، ثقافت اور شناخت کا بھی اہم حصہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان درختوں کے تحفظ اور کٹائی سے متعلق بحث نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
جموںکشمیر کی اسمبلی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اخروٹ کے درختوں کی اندھا دھند کٹائی کی مخالفت ایک اہم اور بروقت موقف ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ جموں و کشمیر ملک کی کل پیداوار کا 90 فیصد سے زائد اخروٹ پیدا کرتا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ درخت محض ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک اقتصادی ستون ہیں۔ اگر ان کی بے دریغ کٹائی کی اجازت دے دی جائے تو نہ صرف پیداوار متاثر ہوگی بلکہ اس سے جڑی روزگار کی زنجیر بھی ٹوٹ سکتی ہے۔
یہ معاملہ صرف اخروٹ تک محدود نہیں بلکہ چنار کے درخت بھی اسی نوعیت کے خطرات سے دوچار ہیں۔ چنار، جو کشمیر کی پہچان کا استعارہ ہے، صدیوں سے یہاں کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ مغل دور میں لگائے گئے یہ درخت آج بھی وادی کے باغات اور کناروں کو زینت بخشتے ہیں۔ خزاں کے موسم میں جب ان کے پتے سرخ اور سنہری رنگ اختیار کرتے ہیں تو یہ منظر نہ صرف سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے بلکہ کشمیریوں کے جذبات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ تیز رفتار شہری ترقی، غیر قانونی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیاں ان درختوں کے وجود کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ چنار کے درخت کو بالغ ہونے میں کم از کم پچاس سال لگتے ہیں، اور اگر ایک بار یہ درخت ختم ہو جائے تو اس کا نعم البدل فوری طور پر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود بعض اوقات ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ان درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے، جو ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا زمین کے مالک کو اپنی زمین پر موجود درخت کاٹنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے؟ بظاہر یہ ایک جائز مطالبہ لگتا ہے، لیکن جب اس کا تعلق اجتماعی مفاد، ماحولیات اور معیشت سے ہو تو معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف کہ درختوں کی کٹائی پر پابندیاں کسی وجہ سے عائد کی گئی ہیں، ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر ہر شخص کو مکمل آزادی دے دی جائے تو ممکن ہے کہ قلیل مدتی فائدے کیلئے طویل مدتی نقصان کو نظر انداز کر دیا جائے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں پابندیاں ہوتی ہیں وہاں بدعنوانی کے امکانات بھی جنم لیتے ہیں۔ اجازت ناموں کے حصول میں تاخیر اور رشوت ستانی جیسے مسائل عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعلیٰ کی یہ تجویز کہ درختوں کی کٹائی کی اجازت کو پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ کے تحت لایا جائے، ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ لوگوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
تاہم، صرف اجازت کے نظام کو بہتر بنانا کافی نہیں۔ اصل ضرورت ایک جامع پالیسی کی ہے جو درختوں کے تحفظ اور ترقی دونوں کو یقینی بنائے۔ اگر پرانے یا غیر پیداواری درختوں کو کاٹنا ضروری ہو تو اس کے بدلے میں جدید اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی شجرکاری کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ زمین کے متبادل استعمال پر پابندی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہو سکتی ہے، تاکہ زرعی زمین کو تعمیرات کی نذر ہونے سے بچایا جا سکے۔
چنار کے درختوں کی جیو ٹیگنگ جیسے اقدامات بھی قابلِ ستائش ہیں۔ اس سے نہ صرف ان درختوں کی نگرانی ممکن ہو رہی ہے بلکہ عوام میں ان کے تحفظ کے حوالے سے شعور بھی بڑھ رہا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قانون کا اطلاق یکساں اور سختی سے کیا جائے۔ اگر ایک طرف درختوں کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جا رہا ہو اور دوسری طرف انہیں غیر قانونی طور پر کاٹا جا رہا ہو تو یہ تضاد پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
اصل بات شاید اتنی سیدھی بھی نہیں جتنی دکھتی ہے۔ ایک طرف ترقی کی ضرورت ہے، سڑکیں، عمارتیں اور شہری سہولیات بھی اہم ہیں۔ دوسری طرف وہ درخت ہیں جو نہ صرف ماحول کو متوازن رکھتے ہیں بلکہ ایک خطے کی روح کا حصہ ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کس کو ترجیح دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ دونوں کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے۔
کشمیر کے لیے یہ فیصلہ محض ماحولیاتی یا اقتصادی نہیں بلکہ شناخت کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر چنار اور اخروٹ کے درخت ختم ہو جائیں تو وادی کا وہ حسن، وہ تاریخ اور وہ احساس بھی مدھم پڑ جائے گا جو اسے دنیا بھر میں منفرد بناتا ہے۔ جیسا کہ ایک ماہر نے کہا’چنار کے بغیر کشمیر گھر جیسا محسوس نہیں ہوگا۔‘
لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، عوام اور ماہرین مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جو نہ صرف ان درختوں کو بچائے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ کرے۔ یہ صرف درختوں کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک معیشت اور ایک شناخت کا سوال ہے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے: ہم ترقی کی دوڑ میں کیا کھو رہے ہیں، اور کیا واقعی وہ نقصان برداشت کیا جا سکتا ہے؟





