تہران،30 مارچ (یواین آئی ) ایرانی پاسداران انقلاب نے خطے میں قائم تمام امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں کو اپنے لیے جائز اہداف قرار دیتے ہوئے وہاں موجود طلبہ اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
پاسداران انقلاب کا یہ بیان تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور اصفہان یونیورسٹی پر ہونے والی حالیہ بمباری کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کا ذمہ دار امریکی اور اسرائیلی افواج کو ٹھہراتے ہوئے اسے تعلیمی مراکز کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اپنی علاقائی جامعات کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے پیر کی دوپہر تک ایرانی جامعات پر ہونے والے حملوں کی باضابطہ مذمت کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر، ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا جس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ خطے میں موجود امریکی جامعات کے اساتذہ، طلبہ اور مقامی رہائشیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے ان مقامات سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔ یہ دھمکی تب تک برقرار رہے گی جب تک اتحادی افواج تعلیمی مراکز پر حملے نہیں روکتی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران کی سائنسی اور ثقافتی بنیادوں کو تباہ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری پروگرام کا بیانیہ محض ایک بہانہ ہے جس کا مقصد اپنے گھناؤنے عزائم کو چھپانا ہے۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ جامعات اور تحقیقی مراکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک کی علمی ترقی کو روکا جا سکے۔ ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنی سائنسی اور تعلیمی روایات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
حکام کے مطابق ایرانی جامعات کو نشانہ بنانا دراصل ملک کی ترقی یافتہ نسل کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ تہران نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تعلیمی اداروں پر ہونے والی ان کارروائیوں کا نوٹس لے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔








