:
میامی، 28 مارچ (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے کہا ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ آئندہ ہفتے ایران کے ساتھ مذاکراتی ملاقاتیں ہوں گی۔
فلوریڈا کے شہر میامی میں ایف آئی آئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سٹیو وِٹکوف نے کہا کہ اگرچہ ایران میں بعض حلقے مذاکرات کی تردید کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ایران میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن میرے خیال میں سب جانتے ہیں کہ ہم بات چیت کر رہے ہیں۔”
وِٹکوف نے آبنائے ہرمز سے چند بحری جہازوں کے گزرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ صورتحال بہتر ہونے کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایک امن معاہدہ چاہتا ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے کے نظریے پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دباؤ کے بغیر کسی فریق کو مذاکرات کی میز پر لانا ممکن نہیں ہوتا۔
امریکی ایلچی نے ایران کے لیے چند شرائط کا بھی ذکر کیا جن میں یورینیم کی افزودگی روکنا اور غیر ریاستی ملیشیاؤں کی حمایت ختم کرنا شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے ایک 15 نکاتی منصوبہ پہلے ہی ایرانی حکام کو دیا جا چکا ہے اور واشنگٹن کو امید ہے کہ ایران اس پر ردعمل دے گا۔
اسٹیو وِٹکوف نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے مثبت جواب ملا تو اس سے موجودہ تنازع کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔








