نئی دہلی، 27 مارچ (یو این آئی): ٹاٹا آئی پی ایل اور ہندوستانی کرکٹ کے تین بڑے نام – ایم ایس دھونی، وراٹ کوہلی اور روہت شرما – کل سے شروع ہونے والے 19ویں سیزن میں ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے بے تاب ہوں گے۔ جیو اسٹار کے پروگرام ‘آئی پی ایل ٹوڈے لائیو’ پر گفتگو کرتے ہوئے ماہرین آکاش چوپڑا اور عرفان پٹھان نے ایم ایس دھونی کی بیٹنگ پوزیشن، وراٹ کوہلی کی فٹنس اور ان تینوں کھلاڑیوں کے متوقع مظاہرے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
عرفان پٹھان نے کہا کہ سی ایس کے ٹیم میں سنجو سیمسن کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ ٹاٹا آئی پی ایل 2026 ایم ایس دھونی کا آخری سیزن ہوگا۔ عرفان کے مطابق، "ایسا لگتا ہے کہ یہ ایم ایس دھونی کا آخری سیزن ہوگا۔ اس کے آثار مل رہے ہیں کیونکہ چنئی کی ٹیم نے ایک ایسے وکٹ کیپر بلے باز کو شامل کیا ہے جو اگلے کئی سالوں تک کھیل سکتا ہے۔ آپ اس کے گرد اپنی ٹیم تیار کر سکتے ہیں اور وہ فرنچائز کا چہرہ بن سکتا ہے – وہ کھلاڑی سنجو سیمسن ہے۔ اس نے حال ہی میں ورلڈ کپ جیتا ہے اور بہترین فارم میں ہے۔ وہ ایک ایسا کھلاڑی ہے جسے ایم ایس دھونی اپنی کمان سونپنا چاہیں گے، جس میں یہ سب کرنے کی قابلیت ہو اور مداح بھی اس سے اپنائیت محسوس کر سکیں۔ سنجو کے آنے سے مجھے لگتا ہے کہ دھونی اب کہہ سکتے ہیں کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کسی اور کے سپرد کر دیں۔”
آئی پی ایل میں ایم ایس دھونی کی میچ ختم کرنے کی صلاحیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "جب سی ایس کے نے احمد آباد میں اپنی گزشتہ ٹرافی جیتی تھی، تب بھی یہ بحث چل رہی تھی کہ وہ بیٹنگ آرڈر میں بہت نیچے آ رہے ہیں۔ بڑھتی عمر اور گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے ان کے ذہن میں اپنی حکمت عملی واضح تھی کہ وہ آخری دو اوورز میں بیٹنگ کے لیے آئیں گے، لیکن ہوا کیا؟ وہ ان میچوں کو ختم نہیں کر پائے۔ کچھ سال پہلے جب سندیپ شرما آخری اوور کر رہے تھے، تو دھونی نے میچ کو سنسنی خیز تو بنا دیا مگر جیت نہ دلا سکے۔ اب ایسا اکثر ہو رہا ہے۔ اس لیے اگر آپ کھیل رہے ہیں، تو آپ کو ٹیم کے لیے زیادہ ذمہ داری لینی ہوگی اور کم از کم چار یا پانچ اوورز تک بیٹنگ کرنی ہوگی، یہی ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوگا۔”









