’اگر مطالبہ منظور نہیں کیا گیا تو جد وجہد تحریک میں بدل جائے گی ‘
ایجنسیز
جموں؍۲۷مارچ
بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے ارکان نے، کئی بی جے پی اراکین اسمبلی کے ساتھ مل کر، جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی(این ایل یو)کے قیام کے مطالبے کے حق میں ایک ریلی نکالی، تاہم پولیس نے انہیں اسمبلی میں واقع سول سیکریٹریٹ کی جانب مارچ کرنے سے روک دیا۔
بی جے پی اور اس کی یوتھ ونگ بی جے وائی ایم نے برسراقتدار نیشنل کانفرنس حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کشمیر کے لیے این ایل یو کا اعلان کر کے اور جموں کو اس سے محروم رکھ کر مرکز کے زیر انتظام علاقے کو مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کر رہی ہے۔
’سیکریٹریٹ چلو‘ کال کے تحت یہ مارچ شہر کے مختلف علاقوں سے گزارا گیا، جس دوران ’بھارت ماتا کی جے‘، ’جموں کے لیے این ایل یو‘ اور ’این سی ہائے ہائے‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔
بی جے پی کے اراکین اسمبلی شام لال شرما، یودھویر سیٹھی، اروند گپتا، وکرم رندھاوا، سنیل بھردواج، شگن پریہار اور دیویانی رانا سمیت دیگر نے بھی ریلی میں شرکت کی اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔
پولیس نے مظاہرین کو اسمبلی کے قریب واقع سول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا، جس کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جس میں بیریکیڈز، خار دار تاریں اور سکیورٹی گاڑیاں شامل تھیں۔
پولیس کی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے بی جے وائی ایم جموں و کشمیر کے صدر ارون پربھات نے کہا ’’ہم کوئی غلط کام نہیں کر رہے تھے اور ہم نے پُرامن مارچ کی کال دی تھی، لیکن ہمیں روکنے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ اس کے باوجود مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر سیکریٹریٹ کے قریب پہنچ گئے‘‘۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صرف شروعات ہے۔ ’’اگر جموں میں این ایل یو قائم نہ کیا گیا اور۲۴ہزار ملازمتوں کی مبینہ فروخت جیسے فیصلے واپس نہ لیے گئے تو یہ جدوجہد ایک تحریک کی شکل اختیار کر لے گی‘‘۔
رکن اسمبلی رانا نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیر میں این ایل یو کے قیام کی مخالفت نہیں کرتی، لیکن جموں کے لیے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتی ہے۔
رانا نے کہا’’اگر کشمیر میں این ایل یو قائم کیا جاتا ہے تو جموں بھی اس کا حقدار ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کشمیر کو محروم رکھا جائے، بلکہ دونوں خطوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں‘‘۔
رکن اسمبلی اجے گپتا نے کہا کہ جموں نے ہمیشہ اپنی حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔انہوں نے کہا’’چاہے سنٹرل یونیورسٹی کا معاملہ ہو یا ایمس، جموں کو ہمیشہ اپنے حق کے لیے لڑنا پڑا ہے۔ این ایل یو کا مطالبہ بھی کافی عرصے سے جاری ہے اور عوام اس کے حصول تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے‘‘۔
گپتا نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دی گئی۔
رکن اسمبلی سیٹھی نے حکومت پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’ہم جموں میں یونیورسٹی کے قیام تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بی جے پی کی حکومت مساوی ترقی کو یقینی بنائے گی۔










