واشنگٹن، 26 مارچ (یو این آئی) ۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہےکہ ٹرمپ جلد جنگ ختم کرانے پر زور دے رہے ہیں اور ایران سے تنازع 4 سے 6 ہفتوں میں نمٹانےکے خواہش مند ہیں۔ اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ طویل نہیں کرنا چاہتے، امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کا مزیدکہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے چینی صدر سے مئی میں بیجنگ سمٹ اس بنیاد پر رکھی تھی کہاانہیں توقع تھی کہ جنگ اس سے پہلے ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کی توجہ کبھی کبھی دیگر سیاسی امور، جیسے وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن اقدامات کی طرف بھی منتقل ہوجاتی ہے، صدر نے ایک ساتھی کو بتایا کہ جنگ ان کی دیگر ترجیحات سے توجہ ہٹا رہی ہے، قریبی مشیروں کے مطابق ٹرمپ اگلے بڑے چیلنج کی طرف بڑھنے کے لیے بے تاب دکھائی دیتے ہیں، بعض اتحادیوں کو امید ہے کہ ٹرمپ اب کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے پر توجہ دیں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا مزید مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوج بھیج رہے ہیں، ٹرمپ نےایرانی تیل تک امریکی رسائی کوایک ممکنہ شرط کے طور پر سوچا ہے، ایرانی تیل تک رسائی کی شرط پر فی الحال کوئی عملی منصوبہ بندی نہیں، ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے کے آسان راستے نہیں ہیں، اور امن مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لہٰذا یہ اندازہ لگانا مشکل ہےکہ ٹرمپ جنگ کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے، لیکن ٹرمپ پسِ پردہ کبھی سفارتکاری کی طرف جاتے ہیں اورکبھی حملے بڑھانے کی طرف، معاہدے یا واضح فوجی فتح کے بغیر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کا مسئلہ درپیش رہے گا۔
دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ بھی امریکا کی جنگ ختم کرانے کے لیے تجاویز سامنے لے آیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی تجویز ہےکہ اگرایران تمام افزودہ یورینیئم ہٹادے اور امریکی مطالبات مان لے تو ٹرمپ پابندیوں میں بڑی نرمی دے سکتے ہیں،ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں لگانے کی شرط بھی رکھی گئی جا رہی ، امریکاچاہتا ہے کہ ایران حزب اللہ، حوثیوں اور حماس سمیت تمام مسلح گروپوں کی حمایت بند کردے، امریکی اہلکاروں کے مطابق یہ تجاویزحساس ہیں، اس لیے تفصیلات باضابطہ ظاہرنہیں کی جا رہی ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کےمطابق وائٹ ہاؤس نے ایرانی میڈیارپورٹ کوغلط قراردیا جا رہی جس میں کہا گیا جا رہی کہ ایران نے منصوبہ مسترد کردیا جا رہی ، امریکا کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور ابھی کسی نتیجے کا اعلان قبل ازوقت ہوگا۔









