ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۵مارچ
لوک سبھا کو بدھ کے روز بتایا گیا کہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس(آئی اے ایس )کی۱۳۰۰؍اور انڈین پولیس سروس(آئی پی ایس )کی۵۰۵؍اسامیاں خالی ہیں۔
وزیر مملکت برائے عملہ جتیندر سنگھ نے ایک تحریری جواب میں کہا کہ آئی اے ایس کی کل منظور شدہ۶۸۷۷؍ اسامیوں کے مقابلے میں۵۵۷۷؍ افسران تعینات ہیں۔ اسی طرح آئی پی ایس کی۵۰۹۹منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے میں۴۵۹۴؍ افسران موجود ہیں۔
سنگھ نے وضاحت کی کہ آئی اے ایس کی اسامیاں حکومت کی جانب سے جاری کردہ ریزرویشن رہنما اصولوں کے مطابق پُر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا’’۲۰۱۲سے ہر سال سول سروسز امتحان کے ذریعے۱۸۰؍امیدواروں کو آئی اے ایس میں بھرتی کیا جا رہا ہے، جن میں سے۴فیصد نشستیں معذور امیدواروںکے لیے مختص ہیں‘‘۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ یونین پبلک سروس کمیشن(یو پی ایس سی ) کے تحت سول سروسز امتحان کے ذریعے امیدواروں کی تقرری کا عمل مسلسل جاری ہے۔ خالی آسامیوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے اور تمام مشتہرہ آئی اے ایس اسامیوں کو ریزرویشن اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پُر کیا جاتا ہے۔
وزیر نے کہا کہ اس وقت انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس میں کوئی بیک لاگ اسامی موجود نہیں ہے، جبکہ یکم جنوری۲۰۲۵ تک انڈین پولیس سروس میں بھی کوئی بیک لاگ ریزروڈ پوسٹ باقی نہیں ہے۔
سنگھ نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں۲۴۵دیگر پسماندہ طبقات(او بی سی)درج فہرست ذاتوں(ایس سی) اور ۶۷درج فہرست قبائل(ایس ٹی ) سے تعلق رکھنے والے امیدوار آئی اے ایس میں تعینات کیے گئے۔
ایک علیحدہ جواب میں وزیر نے کہا کہ انڈین فاریسٹ سروس میں بھی اس وقت۱۰۲۹؍اسامیاں خالی ہیں، جبکہ اس کی منظور شدہ تعداد۳۱۹۳ ہے۔انہوں نے کہا،’’بھرتی ایک مسلسل عمل ہے اور ان خدمات میں خالی اسامیوں کو ہر سال ریاستوں کی انتظامی ضروریات، ترقی کے مواقع اور کیریئر کی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے پُر کیا جاتا ہے‘‘۔
سنگھ نے مزید کہا کہ مختلف وزارتوں اور محکموں میں منظور شدہ اسامیوں، تعینات عملے اور خالی آسامیوں سے متعلق تفصیلی معلومات محکمہ اخراجات کے پے ریسرچ یونٹ کی سالانہ رپورٹس میں دستیاب ہیں، جو عوام کے لیے قابلِ رسائی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خالی آسامیوں کی تفصیلی معلومات برقرار رکھنے کی ذمہ داری متعلقہ کیڈر کنٹرولنگ اتھارٹیز، وزارتوں اور محکموں پر عائد ہوتی ہے۔
وزیر سے یہ سوال بھی کیا گیا تھا کہ کیا حکومت نے تمام مرکزی وزارتوں اور محکموں میں منظور شدہ، موجودہ اور خالی اسامیوں کے حوالے سے کوئی ابتدائی مطالعہ کیا ہے۔
اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں اور محکموں میں خالی آسامیوں کا پیدا ہونا اور ان کو پُر کرنا ایک مسلسل عمل ہے، اور اس سلسلے میں وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کی جاتی رہی ہیں تاکہ ان اسامیوں کو مقررہ مدت میں پُر کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکتوبر۲۰۲۲سے منعقد ہونے والے قومی روزگار میلوں کے ذریعے منتخب امیدواروں میں لاکھوں تقرری نامے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔










