واشنگٹن، 24 مارچ (یو این آئی) ایران سے جنگ کے 24 ویں روز اچانک ٹرمپ نے کس کے دباؤ میں آ کر ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی ہے۔
ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ 25 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران کئی بار ایران کو تباہ کرنے اور جنگ جیتنے کے دعوے کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے 24 ویں بڑا یو ٹرن لے لیا۔ ٹرمپ جنہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت اور مہلت گزرنے کے بعد ایران کے تمام بجلی گھروں کو تباہ کرننے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم گزشتہ روز اچانک انہوں نے یہ دھمکی واپس لیتے ہوئے حملہ پانچ دن موخر کرنے اور ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی۔
ہر وقت جنگ پر آمادہ اور ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواہشمند امریکی صدر ٹرمپ کے رویے میں اچانک یہ تبدیلی کیسے آئی۔ امریکی ادارے بلوم برگ نے اس سے پردہ اٹھا دیا۔ بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدرٹرمپ نے اتحادیوں کی وارننگ کے بعد مذاکرات کا آغاز کیا۔ وہ خلیجی ملکوں کی وارننگ کے بعد ٹرمپ ایرانی انفرا اسٹرکچرکو تباہ کرنے سے پیچھے ہٹے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام کے تباہ کُن نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس تنبیہہ کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران کو پانچ دن کی مہلت دے رہےہیں۔ اور تہران کے ساتھ نئی بات چیت شروع ہو رہی ہے، جس کے ذریعے وہ سمجھتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچ کر تنازع حل کیا جا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے جب فلوریڈا روانہ ہو رہے تھے تو انہیں اچانک ایران سے جنگ بندی کا خیال آیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فلوریڈا روانگی سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ جب آپ دوسرے فریق کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں تو سیزفائر نہیں کرتے، لیکن تین دن کی مہلت اور ایران میں پراسرار اہلکار سے گفتگو کے بعد ٹرمپ کی سوچ بدل گئی۔
ٹینیسی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا وہ چاہتے ہیں معاملہ حل ہو اور ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اب تو تجویز ہےکہ پاکستان رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان ملاقات کی میزبانی کرے، مجوزہ ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کرسکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ کے مؤقف میں یہ تبدیلی خلیجی اتحادیوں کی وارننگز کے بعد آئی، ان کی وارننگ تھی کہ ایران میں توانائی مراکز پر حملہ کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا اعلان پیر کو امریکی مارکیٹ کھلنے سے دو گھنٹے پہلے کیا گیا، اعلان نے وال اسٹریٹ میں تیزی پیدا کی، برینٹ کروڈ کی قیمت میں نمایاں کمی آئی، یہ دونوں عوامل ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی اسٹرکچر پر 5 روز کے لیے حملے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ میں اور مجتبیٰ خامنہ ای مل کر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم آنکھ کے بدلے آنکھ نہیں سر لیں گے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے 5 اسٹریٹجک شرائط بھی پیش کر دی ہیں۔








