حضرت بل میں مرکزی اجتماع متوقع،ضلع صدر ماقامات پر بھی بڑے اجتماعات کا امکان لیکن خراب موسم آڑے آ سکتا ہے
عید نوروز، نوراتری اور رام نومی کے پیش نظر سکیورٹی اور ٹریفک کے جامع منصوبے تیار کیے گئے ہیں:آئی جی پی
(ندائے مشرق خبر )
سرینگر؍۲۰مارچ
ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جموں و کشمیر میں بھی عیدالفطر ہفتہ،۲۱ مارچ کو منائی جائے گی۔ جمعرات کی شام چاند نظر نہ آنے کی تصدیق مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی ناصر الاسلام نے کی، جس کے بعد جمعہ کو رمضان المبارک کا آخری روزہ رکھا جائے گا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں عید کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ سری نگر سمیت تمام بڑے قصبوں اور شہروں میں بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں لوگ عید کی خریداری کے آخری مراحل میں مصروف ہیں۔ کپڑوں، جوتوں، مٹھائیوں اور دیگر ضروری اشیاء کی دکانوں پر خریداروں کا ہجوم اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ ایک ماہ کی عبادت کے بعد خوشی کا دن قریب ہے۔
کشمیر میں عید کا سب سے بڑا اجتماع حسبِ روایت درگاہ حضرت بل میں متوقع ہے، جہاں بڑی تعداد میں نمازیوں کی آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ اور وقف بورڈ نے اس حوالے سے خصوصی انتظامات کیے ہیں، جن میں صفائی، پانی کی فراہمی، سکیورٹی اور ہجوم کو منظم کرنے کے اقدامات شامل ہیں تاکہ نماز عید بخوبی ادا کی جا سکے۔
تاہم اس بار موسم ایک اہم عنصر بن کر سامنے آیا ہے۔ حالیہ بارشوں اور برفباری کے باعث وادی میں سردی کی شدت برقرار ہے اور کئی علاقوں میں مطلع ابر آلود ہے۔ ایسے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ ممکنہ طور پر اپنے اپنے محلوں کی مساجد میں ہی نماز عید ادا کرنے کو ترجیح دیں گے، خاص طور پر وہ علاقے جہاں آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر ذرائع نے بتایا ہے کہ سری نگر کی تاریخی مرکزی جامع مسجد میں اس بار بھی نماز عید کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کے باعث شہر کے اندر بڑے اجتماعات کا مرکز حضرت بل یا دیگر عیدگاہیں ہی رہیں گی۔
ادھر سکیورٹی کے پیش نظر پولیس اور انتظامیہ نے وادی بھر میں خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وی کے بردی کے مطابق عید، یومِ عرفہ، نوروز، نوراتری اور رام نومی جیسے اہم تہواروں کے پیش نظر سکیورٹی اور ٹریفک کے جامع منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔ بازاروں میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، ہجوم کو قابو میں رکھنے اور عبادت گاہوں پر فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ لوگ باآسانی اپنے عزیز و اقارب تک پہنچ سکیں۔ پولیس اسٹیشنوں کو عوام کی مدد کے لیے متحرک رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں، بشمول دہلی، لداخ کے کرگل علاقے، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی چاند نظر نہ آنے کی اطلاعات کے بعد عیدالفطر ہفتہ کو ہی منانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے اس بار خطے بھر میں عید ایک ہی دن منائے جانے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ایک دن کی تاخیر نے عید کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا ہے، لیکن اس سے تیاریوں اور جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بلکہ اضافی دن نے لوگوں کو خریداری اور انتظامات کے لیے مزید وقت فراہم کیا ہے۔
یوں وادی کشمیر میں ایک طرف روحانیت سے بھرپور رمضان اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، تو دوسری طرف عیدالفطر کی خوشیاں دروازے پر دستک دے رہی ہیں—بس موسم کی ہلکی سی سختی اور حالات کی نزاکت کے بیچ، لوگ اپنی اپنی جگہ سے اس خوشی کو سمیٹنے کی تیاری میں ہیں










