۱۳مارچ کو بکنگ بڑھ کر۸۷ء۷لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو اب کم ہو کر۱۸مارچ کو۵۶سے۵۷لاکھ کے درمیان آ گئی ہے
ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۹مارچ
گھریلو ایل پی جی ریفل کی بکنگ جنگ سے پہلے کی معمول کی سطح کے قریب پہنچ رہی ہے، جو حالات میں بتدریج بہتری کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث خام مال کی فراہمی میں رکاوٹوں کے سبب کمرشل صارفین، بشمول ہوٹلوں، کے لیے سپلائی پر پابندیاں برقرار ہیں، جس سے خدشات اب بھی موجود ہیں۔
۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں سے قبل ملک میں۳۳کروڑ سے زائد گھریلو ایل پی جی صارفین روزانہ اوسطاً تقریباً۵۵لاکھ سلنڈرز بک کرتے تھے۔ اس کشیدگی کے بعد تہران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی، جو سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے خلیجی ممالک کے لیے تیل، گیس اور ایل پی جی برآمد کرنے کا ایک اہم راستہ ہے، اور جس کے ذریعے بھارت کو بڑی مقدار میں توانائی کی سپلائی ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بھارت کی تقریباً۶۰فیصد ایل پی جی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں کمرشل صارفین کے لیے فراہمی محدود کر دی گئی اور گھریلو صارفین میں گھبراہٹ کے باعث بکنگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو۱۳مارچ کو بڑھ کر۸۷ء۷لاکھ تک پہنچ گئی۔
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما کے مطابق اب بکنگ کم ہو کر۱۸مارچ کو۵۶سے۵۷لاکھ کے درمیان آ گئی ہے۔
شرما نے کہا’’گھبراہٹ میں کی جانے والی بکنگ کم ہو رہی ہے‘‘اور مزید بتایا کہ حکومت دستیاب ایل پی جی کی فراہمی کو گھریلو صارفین کے لیے ترجیح دے رہی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’’ایل پی جی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لیکن کسی بھی ڈسٹری بیوٹر پر مکمل قلت (ڈرائی آؤٹ) نہیں ہوئی ہے‘‘۔
کمرشل صارفین کو ان کی ضرورت کا صرف پانچواں حصہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
شرما کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں۴۰فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے مطابق روزانہ سپلائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا’’ہماری سپلائی میں کمی نہیں آئی، بعض دنوں میں یہ پہلے سے بھی زیادہ رہی۔۱۸مارچ کو۵۶لاکھ سے زائد بکنگ کے مقابلے میں۵۴ء۹۱لاکھ سلنڈرز فراہم کیے گئے‘‘۔
تیل کمپنیاں طلب کے مطابق سپلائی برقرار رکھنے کے لیے اضافی شفٹوں میں کام کر رہی ہیں۔۱۳مارچ کو۶۲ء۵لاکھ اور۱۴مارچ کو۶۰لاکھ سلنڈرز فراہم کیے گئے، جو گھبراہٹ کے باعث بکنگ کے عروج کے دن تھے۔
موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر ایل پی جی کی فراہمی پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی مقام پر مکمل قلت کی اطلاع نہیں ہے، جبکہ گھریلو صارفین کو سپلائی بلا تعطل جاری ہے۔آن لائن بکنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو۹۴فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (او ٹی پی) کی کوریج 83 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے تاکہ درست صارفین تک سلنڈرز کی ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے علاوہ جن علاقوں میں سٹی گیس نیٹ ورک دستیاب ہے وہاں صارفین کو پائپڈ نیچرل گیس کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جو ایل پی جی کا ایک آسان متبادل ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں۱ء۲۵لاکھ نئے گھریلو، کمرشل اور صنعتی کنکشن جاری کیے گئے ہیں۔
بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے چھاپے اور معائنہ جاری ہیں، جن کے دوران سلنڈرز ضبط کیے گئے اور مختلف ریاستوں میں مقدمات درج کیے گئے۔
مرکزی حکومت نے۱۸مارچ کو تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید برآں، متبادل ایندھن جیسے مٹی کے تیل کے استعمال کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ کمرشل ایل پی جی کے ذخائر ریاستوں کو ان کی ترجیحات کے مطابق استعمال کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔










