بی پی ایل آبادی کشمیر مٰن زیادہ ہے لیکن اس کا فائدہ نہیں مل رہا ہے :لون
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۷مارچ
پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے کشمیر وادی میں خطِ غربت سے نیچے (بی پی ایل) آبادی کے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوکریوں اور تعلیمی داخلوں میں معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے لیے مقررہ اثاثہ جاتی معیار پر نظرثانی کرے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں لون نے کہا کہ کشمیر میں بی پی ایل آبادی جموں سے زیادہ ہے، اس کے باوجود حالیہ کے اے ایس امتحان میں ای ڈبلیو ایس زمرے کے نو منتخب امیدواروں میں سے صرف ایک کا تعلق وادی سے تھا۔
لون نے کہا’’خطِ غربت سے نیچے (انتیودیہ انا یوجنا + ترجیحی گھرانے) میں شامل افراد کی تعداد کشمیر وادی میں جموں سے زیادہ ہے‘‘۔ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کشمیر میں یہ تعداد۳۷ء۷۱لاکھ ہے جبکہ جموں میں۲۹ء۸۱لاکھ۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے مزید کہا کہ اسمبلی میں ان کے سوالات کے جواب میں حکومت نے انکشاف کیا کہ ای ڈبلیو ایس زمرے کے تحت جاری کردہ سرٹیفکیٹس میں سے صرف۷ء۷فیصد اور۸ء۶فیصد کشمیر سے تھے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے معیار میں ہے۔
ان کاکہنا تھا’’اگرچہ کشمیر کی تقریباً پوری بی پی ایل آبادی انکم کے معیار پر پورا اترتی ہے، لیکن اثاثوں سے متعلق شرائط، خاص طور پر رہائشی مکان اور پلاٹ کے سائز کی حد، کشمیریوں کو ای ڈبلیو ایس زمرے سے باہر رکھتی ہیں‘‘۔
ضلع وار بی پی ایل آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے لون نے کہا کہ اثاثہ جاتی معیار وادی کے لوگوں کے ساتھ ’سنگین ناانصافی‘ ہے۔
لون نے کہا’’یہ کشمیر کے عوام کے ساتھ شدید ناانصافی ہے۔ سری نگر میں۵ء۰۹لاکھ، کپواڑہ میں۵ء۲۱ لاکھ، بارہمولہ میں۵ء۷۹لاکھ اور اننت ناگ میں۵ء۷۶ لاکھ بی پی ایل افراد ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس پرانے شہر سری نگر، بارہمولہ، اننت ناگ، بڈگام اور سوپور کے بعض علاقوں کے لیے ایک اہم اعتماد سازی اقدام ثابت ہو سکتے تھے۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں، اور کہا کہ معیار میں اصلاح کیے بغیر بھرتی کا عمل جاری رکھنا ناانصافی کے مترادف ہوگا۔
لون نے کہا’’تمام ریزرویشنز کا جھکاؤ زیادہ تر جموں کی جانب ہے۔ یہ مخصوص زمرہ بھی حکومتی اصولوں کی وجہ سے جموں کی طرف جھکا ہوا ہے، نہ کہ اس لیے کہ کشمیر امیر اور جموں غریب ہے‘‘۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر میں اثاثہ جاتی شرائط کو ختم کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلیکاکہنا تھا’’یہ وقت ہے کہ راجستھان اور کیرالم جیسی ریاستوں کے اقدامات کا مطالعہ کیا جائے۔ اگر انہوں نے اثاثوں سے متعلق شرائط ختم کر دی ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟










