ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۷مارچ
بھارت نے منگل کے روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امید نشہ علاج اسپتال پر پاکستان کے مبینہ فضائی حملوں کی’غیر مبہم‘ الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’بزدلانہ اور ناقابلِ معافی تشدد‘ قرار دیا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پیر کی رات کیے گئے اس حملے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے، اور ایسے مقام کو نشانہ بنایا گیا جسے کسی بھی صورت میں فوجی ہدف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان’’ایک قتلِ عام کو فوجی کارروائی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے‘‘۔
افغان طالبان حکومت کے مطابق پیر کی رات ہونے والے اس حملے میں کم از کم۴۰۰؍افراد ہلاک اور۲۵۰زخمی ہوئے، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کسی اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ فوجی تنصیبات اور’’دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے‘‘کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا’’پاکستان کی جانب سے یہ گھناؤنا جارحانہ اقدام افغانستان کی خودمختاری پر کھلا حملہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ یہ پاکستان کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور اپنی اندرونی ناکامیوں کو بیرونی کارروائیوں کے ذریعے چھپانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔
بھارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ افغانستان میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند ہو۔
بیان میں کہا گیا’’بھارت سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کرتا ہے، اور اس المناک گھڑی میں افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ہم افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کرتے ہیں‘‘۔
یہ حملہ دو اسلامی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کا تازہ واقعہ ہے، جو ماہِ رمضان کے دوران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ (ایجنسیاں)










