نوجوان ایک ایسے بھارت کی تعمیر کیلئے خود کو کریںجو قوموں کو ناقابلِ شکست اتحاد میں جوڑ دے:ایل جی سنہا
ڈی آئی پی آر
جموں؍۱۶مارچ
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز اس بات پر زور دیا کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حساسیت سے بھی بھرپور ہو۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت چیلنجوں سے گھری دنیا کی رہنمائی میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرے۔
سنہا نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف بھارت بلکہ عالمی فکری اور اخلاقی شعور کو بھی تقویت دیں۔
سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کے مجسمے کی نقاب کشائی کے بعد خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا’’بھارت، جو انسانی فلاح و بہبود سے رہنمائی لیتا ہے، عالمی امن اور مشترکہ خوشحالی کے لیے پُرعزم ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ بھارت چیلنجوں سے گھری دنیا کی رہنمائی کرتے ہوئے اپنا مقام دوبارہ حاصل کرے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر، جنہوں نے یونیورسٹی کے جموں کیمپس کا نام بھی تبدیل کر کے’شری مہاراجہ رنبیر سنگھ کیمپس‘ رکھا، نے کہا، ’’ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس طرح تیار کرنا ہوگا کہ وہ ایک مضبوط بھارت کی تعمیر کریں‘ایسا بھارت جو قوموں کو ناقابلِ شکست اتحاد میں جوڑ دے اور ان میں عالمی امن اور انسانی فلاح کے اعلیٰ مقصد کو فروغ دے‘‘۔انہوں نے کہا کہ قدیم بھارت کا سفر کبھی یک طرفہ نہیں رہا بلکہ اس نے ایک ہاتھ میں سائنس اور دوسرے میں ثقافت کو تھامے رکھا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہم نے برہماگپت کی دانش اور بدھ کی حکمت جیسی شخصیات سے فیض حاصل کیا۔ یہ کیمپس بھی ایسی ہی شخصیات کی پرورش کرے‘‘۔سنہا نے کہا کہ قوم مہاراجہ رنبیر سنگھ کی اصلاحات، ثقافتی فروغ اور ایک مضبوط و ترقی یافتہ جموں و کشمیر کی تشکیل کے لیے ان کی مقروض ہے۔
ایل جی نے کہا’’مہاراجہ رنبیر سنگھ نے جموں و کشمیر کو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک زندہ وجود کے طور پر دیکھا، جہاں ثقافت زندگی بخشتی ہے اور اصلاحات توانائی فراہم کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی روح صرف پہاڑوں اور دریاؤں میں نہیں بلکہ فکری اور روحانی اقدار میں بھی موجود تھی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے محض حکمرانی نہیں کی بلکہ جموں و کشمیر کو ایک نیا وژن دیا، اسے نئے انداز میں منظم کیا، علم کی روشنی سے منور کیا اور ثقافتی دولت سے مالا مال کیا، اور آنے والی نسلوں کے لیے مادی، فکری اور روحانی اعتبار سے ایک بھرپور ورثہ چھوڑا۔
سنہا نے کہا کہ سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی کے جموں کیمپس کا نام تبدیل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مہاراجہ رنبیر سنگھ کی بیدار کردہ شعور آج بھی ڈیڑھ سو سال بعد جموں و کشمیر کے معاشرے کی رہنمائی کر رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نوجوانوں کو اصولوں کی راہ پر چلتے ہوئے ایک محفوظ اور خوشحال جموں و کشمیر کی تعمیر میں قیادت کرنی چاہیے۔
ایل جی نے کہا’’آج کے نوجوانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی وسیع اور انسان دوست اقدار کو اپنائیں اور قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ جس طرح آج کا جموں و کشمیر مہاراجہ رنبیر سنگھ کی دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے، اسی طرح یہ کیمپس بھی ان کے نظریات کا آئینہ دار ہونا چاہیے‘‘۔
سنہا نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے مضبوط اور انسانی اقدار کے لحاظ سے حساس ہو، اور نوجوانوں کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ نہ صرف بھارت بلکہ عالمی فکری اور اخلاقی شعور کو بھی تقویت دیں۔










