وادی کے مختلف اضلاع اور قصبوں کے صدر مقامات پر بھی جمعتہ الوداع کی نماز کے لیے بڑے اجتماعات دیکھنے میں آئے
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۳مارچ
جموں و کشمیر میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ جمعتہ الوداع کے موقع پر وادی بھر میں ہزاروں عقیدت مندوں نے مساجد اور درگاہوں کا رخ کیا اور اجتماعی نماز ادا کی۔
جمعتہ الوداع کی سب سے بڑی نماز سری نگر میں ڈل جھیل کے کنارے واقع حضرت بل درگاہ میں ادا کی گئی۔ حکام کے مطابق وہاں تقریباً۸۰ہزار افراد نے نماز ادا کی۔
حضرت بل میں نماز ادا کرنے والی نمایاں شخصیات میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ بھی شامل تھے۔
وادی کے مختلف اضلاع اور قصبوں کے صدر مقامات پر بھی جمعتہ الوداع کی نماز کے لیے بڑے اجتماعات دیکھنے میں آئے۔
اگرچہ اس سال رمضان المبارک میں ایک اور جمعہ آنے کا امکان ہے، تاہم جموں و کشمیر کے گرینڈ مفتی ناصر الاسلام نے جمعرات کو کہا کہ جمعتہ الوداع اسی ہفتے منایا جائے گا۔
حکام نے کہا کہ عیدالفطر کا امکان ہے کہ۲۰ مارچ (جمعہ) یا۲۱مارچ (ہفتہ) کو چاند نظر آنے کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے کہا’’دیگر علما سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جمعتہ الوداع۱۳مارچ کو منایا جائے گا‘‘۔
اسی کے پیش نظر جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کے روز عام تعطیل کا اعلان بھی کیا۔ اس سلسلے میں جمعرات کو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا گیا۔
جہاں وادی کی تمام مساجد اور درگاہیں نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں، وہیں شہر کے نوہٹہ علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد میں مسلسل ساتویں سال بھی نماز ادا نہیں کی جا سکی کیونکہ حکام نے اسے بند رکھا۔
وادی کے مختلف اضلاع اور قصبوں کے صدر مقامات پر بھی جمعۃ الوداع کی نماز کے لیے بڑے اجتماعات دیکھنے میں آئے۔
اگرچہ اس سال رمضان المبارک میں ایک اور جمعہ آنے کا امکان ہے، تاہم جموں و کشمیر کے گرینڈ مفتی ناصر الاسلام نے جمعرات کو کہا کہ جمعۃ الوداع اسی ہفتے منایا جائے گا۔
اسلام نے کہا کہ عیدالفطر کا امکان ہے کہ۲۰ مارچ (جمعہ) یا۲۱مارچ (ہفتہ) کو چاند نظر آنے کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے کہا’’دیگر علما سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جمعۃ الوداع ۱۳مارچ کو منایا جائے گا‘‘۔
اسی کے پیش نظر جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کے روز عام تعطیل کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں جمعرات کو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باضابطہ حکم نامہ جاری کیا گیا










