ہماری ثقافتی قدریں انسانیت کو ہر چیز پر فوقیت دیتی ہیں:سنہا
ڈی آئی پی آر
جموں؍۱۳مارچ
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روز لکھاریوں اور فنکاروں سے اپیل کی کہ وہ جموں کے بھرپور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھیں، اس کی میراث کو فروغ دیں اور نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑیں۔
سنہا نے کہا’’جموں کی ادب، ثقافت اور روحانیت کی روایات نے ہمیں ذات، مذہب اور مصنوعی سرحدوں کی تقسیم سے اوپر اٹھنا سکھایا ہے۔ ہماری ثقافت میں پیوست اقدار ایک ایسی فکر کی عکاسی کرتی ہیں جو انسانیت کو ہر چیز پر فوقیت دیتی ہے‘‘۔
وہ یہ باتیں یونیورسٹی آف جموں کی جانب سے منعقدہ دو روزہ ادبی و ثقافتی اجتماع ‘سہتیہ سنسکرتی سماگم’ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
اس دو روزہ اجتماع میں ثقافتی جلوس، مقامی لباس، دستکاری، روایتی کھانوں، کتابوں اور فن پاروں کی نمائش کے اسٹالز، پینل مباحثے اور مختلف سرگرمیاں شامل ہیں، جن کے ذریعے خطے کی منفرد شناخت، زبانوں، لوک کہانیوں، رسم و رواج، تخلیقی صلاحیتوں اور ادبی ورثے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
سنہا نے خطے کی ثقافتی اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں اپنا مقام بنایا ہے۔
سنہا نے کہا کہ ایک ایسا معاشرہ جس کی تشکیل اس کے وافر ادبی اور ثقافتی سرمایے سے ہوتی ہے، وہی اس کی شناخت اور مستقبل دونوں کا تعین کرتا ہے۔
ایل جی نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس میلے کے دوران اس مشترکہ شناخت پر غور کریں جو معاشرے کو جوڑتی ہے اور تعلق کا گہرا احساس پیدا کرتی ہے۔
سنہا نے کہا’’ثقافت اور ادب کا حقیقی سنگم اس وقت ہوتا ہے جب مختلف فنون کے ذریعے اپنی مٹی سے جڑ کر معاشرے کی روح میں نئی گونج پیدا کی جائے‘‘۔
معروف ادبی شخصیات اور ثقافتی آئیکنز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سنہا نے زور دیا کہ کسی خطے کی شناخت صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ اس کی کہانیوں، گیتوں اور کاریگروں کی زندہ تخلیقی صلاحیتوں سے بھی متعین ہوتی ہے۔
ایل جی نے لوک فنون اور ادب کو جموں کی ’زندہ توانائی‘ قرار دیا۔
سنہا نے کہا’’ہماری لوک روایات لائبریریوں تک محدود نہیں ہوتیں؛ یہ لکھاریوں کے قلم، گلوکاروں کے نغموں، لوک رقص کے قدموں اور فنکاروں کی برش میں زندہ رہتی ہیں‘‘۔
نوجوانوں کو ادب اور ثقافت کی خدمت کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہونے والی اقدار کی زندہ میراث ہیں اور شمولیت کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ زبان کا تحفظ اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھتا ہے جبکہ علاقائی فنون کی پرورش معاشرے میں خود اعتمادی کو مضبوط کرتی ہے۔
سنہا نے مزید کہا’’آئیے ہم مقامی کہانیوں، بولیوں اور فنونِ لطیفہ کی روایات پر توجہ دیں، کیونکہ ہر فرد کی شناخت انہی جڑوں سے توانائی حاصل کرتی ہے۔ جب نسلیں اپنے تجربات بانٹنے کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں تو ثقافتی اور ادبی ورثہ ایک زندہ مکالمہ بن جاتا ہے










