مرکزی حکومت کا واقعہ کی جامع تحقیقات کرانے کا وعدہ
نئی دہلی؍۱۲مارچ
سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی کوشش جمعرات کو راجیہ سبھا میں زیر بحث آئی، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعے کے لیے ریاستی درجہ کی منسوخی کو ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ مرکزی حکومت نے جامع تحقیقات کا وعدہ کیا۔
ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی خطرے میں ہے۔
کھرگے نے کہا’’ان کی سکیورٹی کو خطرہ اس لیے لاحق ہے کیونکہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ ختم کر دیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پہلے مقامی سکیورٹی اور پولیس کے انتظامات ریاستی حکومت کے پاس تھے تو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آ سکتا تھا۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے الزام لگایا کہ آج جموں و کشمیر کی صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ ریاستی درجہ ختم ہونے کے بعد سکیورٹی کی ذمہ داری مرکزی وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا’’قانون و نظم کی صورتحال بگڑ چکی ہے اور اہم رہنماؤں کو ختم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بال بال بچ گئے کیونکہ بدھ کی رات جموں کے مضافات میں ایک شادی کی تقریب کی قیادت کرتے ہوئے ان پر فائرنگ کی گئی۔
کانگریس صدر نے سوال اٹھایا’’کیا حکومت کا ارادہ فاروق عبداللہ کو قتل کروانے کا ہے؟ اگر انہیں محفوظ رکھنا مقصد تھا تو انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جب جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ ملے گا تب ہی لوگ محفوظ ہوں گے۔انہوں نے مرکز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’کشمیر کے لوگ آپ کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں ہیں‘‘ ۔
کھرگے نے مزید الزام لگایا کہ سیکولرزم، سوشلزم اور ملک کو متحد رکھنے کی بات کرنے والے لوگوں کو ختم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔
ملزم، جس کی شناخت کمل سنگھ جموال کے طور پر ہوئی ہے، کو فوری طور پر قابو میں لے کر حراست میں لے لیا گیا۔
تشویش کے اظہار کے جواب میں ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت فاروق عبداللہ کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ فاروق عبداللہ پر ’قاتلانہ حملہ‘ انتہائی تشویشناک اور نہایت سنگین معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا’’حکومت ہند اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے‘‘ اور یقین دہانی کرائی کہ اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
نڈا نے مزید کہا کہ گرفتار کیے گئے مبینہ حملہ آور کے محرکات کا بھی پتہ لگایا جائے گا اور فاروق عبداللہ کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔تاہم نڈا نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’’یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ یہ واقعہ اس لیے پیش آیا کیونکہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ نہیں دیا گیا… اور یہ الزام لگانا کہ کسی طرح انہیں قتل کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے… قابل مذمت ہے‘‘۔انہوں نے کانگریس پارٹی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ۱۹۵۳ میں سرینگر میں بھارتیہ جنا سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی پراسرار موت کے بارے میں تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان نے بھی الزام لگایا کہ حملے کے وقت فاروق عبداللہ کو کوئی پولیس تحفظ حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے۔










