بارش اور تازہ برف باری سے پہاڑی علاقے سفید‘میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہلکی بارشیں
درجہ حرارت میں نمایاں کمی‘وادی میں ۱۹مارچ تک غیر مستحکم موسم کا امکان،’پہاڑی راستوں پر سفر سے گریزکیا جائے ‘
سرینگر؍۱۱مارچ
وادی کشمیر میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی غیر معمولی خشک سالی کے بعد آخرکار بارش اور برف باری نے موسم کا رخ بدل دیا ہے۔
سری نگر، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ اور جنوبی کشمیر کے کئی حصوں میں موسلادھار بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ بالائی علاقوں میں درمیانی سے بھاری برف باری نے پورے خطے کو سفید چادر سے ڈھانپ دیا ہے۔ موسم کی اس تبدیلی کو نہ صرف مقامی آبادی نے سراہا بلکہ کسانوں، سیاحتی شعبے اور ماحولیاتی ماہرین نے بھی اسے ’رحمت‘ اور بہتر موسم کی واپسی قرار دیا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق وادی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے خشکی کے باعث دریاؤں، ندی نالوں، چشموں اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہو گئی تھی۔ بارش اور برف باری کے اس تازہ سلسلے نے اس بحران پر کچھ حد تک قابو پا لیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو کشمیر کے کئی میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشیں ہوتی رہیں، تاہم شمالی اور جنوبی کشمیر کے بڑے حصوں میں بارش کا وقفہ نسبتاً بھاری رہا، جس سے درجہ حرارت میں بھی واضح گراوٹ دیکھی گئی۔
بالائی علاقوں میں جن مقامات پر تازہ برف باری ہوئی ہے ان میں سونہ مرگ-زوجیلا ، سنتھن ٹاپ، سادھنا ٹاپ، پیر کی گلی، اور رازدھان ٹاپ شامل ہیں۔ مسلسل برف باری کے باعث ان مقامات پر آمد و رفت مشکل ہوگئی ہے اور کئی علاقوں میں ٹریفک عارضی طور پر معطل کرنا پڑا ہے۔ خاص طور پر بانڈی پورہ،گریز روڈ پر ٹریفک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے کیونکہ رازدھان ٹاپ پر برف کی موٹی تہہ اور پھسلن نے راستے کو سفر کے لیے خطرناک بنا دیا ہے۔
ایک سرکاری افسر نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا:’رازدان ٹاپ کی اونچائی۱۱ہزار فٹ سے زیادہ ہے اور یہاں رات بھر جمع ہونے والی برف نے سڑک کو انتہائی پھسلن زدہ بنا دیا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت بانڈی پورہ سے گریز تک ٹریفک کو اگلے احکامات تک معطل کر دیا گیا ہے۔ موسم بہتر ہونے اور سڑک صاف ہونے کے بعد ہی آمد و رفت بحال کی جائے گی۔‘
بالائی علاقوں میں برف باری اور میدانی علاقوں میں بارش کے نتیجے میں وادی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ درجہ حرارت میں راتوں رات کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور سری نگر سمیت کئی علاقوں میں سرد ہواؤں نے موسم کو مزید سرد بنا دیا ہے۔ سونہ مرگ اور اس کے گردونواح میں ہونے والی تازہ برف باری نے سیاحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ کئی مقامی ہوٹل مالکوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں اگر موسم مستحکم رہا تو سیاحت کی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
لداخ کے ضلع کرگل سے بھی برف باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ زنسکار، بارسو اور زوجیلا دشوار گزار حصوں میں ہلکی سے درمیانی شدت کی برف باری ہوئی، جبکہ کرگل قصبے اور نچلے علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ طویل خشک موسم کے بعد اس بارش و برف باری نے نہ صرف سردی بڑھائی ہے بلکہ کئی ماہ سے جاری پانی کی قلت میں بھی وقتی کمی لائی ہے۔
وادی کشمیر کے مختلف اضلاع، خاص طور پر کپواڑہ، بانڈی پورہ، گاندربل، اننت ناگ اور کشتواڑ کے بعض بالائی علاقوں میں مزید برف باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں جموں و کشمیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگلے۲۴گھنٹوں میں۲۵۰۰ میٹر سے زیادہ بلندی والے علاقوں، خصوصاً بانڈی پورہ کے حساس مقامات پر کم خطرے والے برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے۔ اتھارٹی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور برفانی ڈھلانوں کے قریب نہ جائیں۔
وادی میں پچھلے کئی ماہ سے پانی کی قلت کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا تھا۔ خشک موسم کے باعث چشمے سکڑ گئے تھے، بجلی پیدا کرنے والے کئی منصوبے متاثر ہو رہے تھے اور زراعت بھی خطرے میں تھی، تاہم تازہ برف باری نے اس خوفناک صورتحال میں کچھ بہتری پیدا کی ہے۔ شمالی کشمیر کے کسانوں کا کہنا ہے کہ بارش اور برف باری نے گندم اور سرسوں کی فصل کو نئی جان دی ہے جبکہ باغبانی شعبے میں بھی اس سے مثبت اثرات کی امید ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق۱۲سے۱۴ مارچ تک موسم بالعموم خشک رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد۱۵ مارچ سے دوبارہ بادل چھا سکتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں ہلکی بارش یا برف باری کا امکان ہے۔ موسمیات کے مطابق اگلے چند دن درجہ حرارت میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے اور شہریوں کو گرم ملبوسات کے استعمال کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
انتظامیہ نے لوگوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تبدیلی کے دوران پہاڑی راستوں پر سفر سے گریز کریں کیونکہ برف باری کے بعد کئی مقامات پر تودے گرنے اور پھسلن کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔










