بھارتی فوج ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے جو ٹیکنالوجی کی برتری، تنظیمی لچک اور خود انحصاری سے متعین ہوگا:آرمی چیف
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۱مارچ
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اپیندر دویدی نے کہا ہے کہ آپریشن سندور سے حاصل ہونے والے اہم اسباق کے بعد بھارت اب ردِعمل پر مبنی حکمتِ عملی کے بجائے فعال ڈیٹرنس حکمتِ عملی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
جنرل دیویدی نے منگل کے روز یہاں کالج آف ڈیفنس مینجمنٹ(سی ڈی ایم)میں۲۱ویں ہائر ڈیفنس مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے جو ٹیکنالوجی کی برتری، تنظیمی لچک اور خود انحصاری سے متعین ہوگا۔
بدھ کو جاری دفاعی بیان کے مطابق جنرل دویدی نے آپریشن سندور سے حاصل ہونے والے اہم تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو ردِعمل پر مبنی انداز سے تبدیل کر کے فعال بازدارانہ انداز کی طرف منتقل کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق انہوں نے مستقبل کے تنازعات میں کثیر جہتی آپریشنز، ڈیٹا پر مبنی جنگ اور بغیر پائلٹ کے نظام کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے روایتی جنگی برتری کے ساتھ ساتھ ایسے ’’بیٹل فیلڈ ایکولائزرز‘ یعنی ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی جو زیادہ طاقتور دشمن کی برتری کو غیر مؤثر بنا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی برتری برقرار رکھنے کے لیے موافقت اور جدت ناگزیر ہیں۔
جنرل دویدی نے کہا کہ تبدیلی کا انتظام ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ ادارہ جاتی لچک کو بڑھانے اور مسائل کے جدید حل تلاش کرنے کے لیے سوچ کے پانچ پہلوؤں ’تخلیقی، تنقیدی، نظامی، ادراکی اور تخیلاتی ‘کو اپنائیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کی تمام’پانچ نسلیں‘ یعنی روایتی جنگ سے لے کر جدید تنازعات تک، ایک مربوط اور کثیر جہتی حکمتِ عملی کے تحت بیک وقت لڑی جانی چاہئیں۔
آرمی چیف نے’’گری زون وارفیئر‘‘یعنی ایسی جنگی حکمتِ عملی جو مکمل جنگ نہیں ہوتی، کو سمجھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ بدلتے ہوئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
جنرل دیویدی نے انسانی وسائل کے بہتر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جونیئر کمیشنڈ افسران(جی سی اوز) کو بااختیار بنایا جانا چاہیے تاکہ افسران کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور عملی سطح پر قیادت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
فوج کے سربراہ نے اس موقع پر بھیرَو بٹالین اور اسپیشل آپریشنز فورسز بریگیڈ جیسی نئی تنظیموں کے قیام کا بھی حوالہ دیا جو موجودہ سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فوج کی فعال حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔
کالج آف ڈیفنس مینجمنٹ کی فیکلٹی اور دوست ممالک سے آئے بین الاقوامی شرکاء کے ساتھ بات چیت کے دوران آرمی چیف نے اسٹریٹجک مینجمنٹ، قیادت کی تربیت اور وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق خیالات کا تبادلہ بھی کیا۔
فوج کے سربراہ نے دفاعی بیان کے مطابق اس ادارے کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کالج اسٹریٹجک قیادت کی تیاری، تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے اور اعلیٰ دفاعی انتظامی تعلیم کے ذریعے بھارت کی دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ (ایجنسیاں)










