اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو کئی اشیاء کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا‘ماہرین کا انتباہ
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۴مارچ
ایران میں جاری جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے۔ تاہم اس بحران کے اثرات صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت کے دیگر شعبے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں، جن میں بھارت سے برآمد ہونے والی ادویات، ایشیا سے آنے والے سیمی کنڈکٹرز اور مشرقِ وسطیٰ سے فراہم ہونے والی تیل سے تیار کردہ مصنوعات جیسے کھادیں شامل ہیں۔
جنگ کے باعث کئی کارگو جہاز خلیج میں پھنس گئے ہیں یا افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ سے فضائی کارگو لے جانے والے کئی طیارے بھی گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو مختلف اشیاء کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
سائراکیوز یونیورسٹی میں سپلائی چین کے ماہر پروفیسر پیٹرک پین فیلڈ کے مطابق اس تنازعے کے عالمی سپلائی چین پر نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو کئی اشیاء کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
کلارکسنز ریسرچ کے مطابق اس وقت تقریباً۳۲۰۰ بحری جہاز خلیج فارس کے اندر غیر فعال حالت میں ہیں، جو عالمی بحری ٹنّاج کا تقریباً چار فیصد بنتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً۱۲۳۱جہاز ایسے ہیں جو عموماً صرف خلیجی خطے میں ہی کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً۵۰۰ جہاز متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحلوں کے قریب بندرگاہوں کے باہر انتظار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سپلائی چین ایک طویل ٹرین کی طرح ہے جس کے مختلف ڈبے دنیا کے مختلف بندرگاہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر ایک مقام پر خلل پڑ جائے تو اس کے اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تیل اور تجارتی نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ خلیج فارس سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے لیے سیاسی خطرات کے خلاف انشورنس فراہم کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی۔
مشرقِ وسطیٰ سے دنیا بھر کو مختلف اہم مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں۔ اس خطے سے تقریباً۲۰ فیصد عالمی تیل کے علاوہ قدرتی گیس سے تیار ہونے والی پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور نائٹروجن کھاد بھی عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح بھارت سے ادویات اور ایشیا سے سیمی کنڈکٹرز اور بیٹریاں بھی اسی خطے کے راستے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہیں۔
خطے میں کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور نہر سویز کے راستے بھی متاثر ہوئے ہیں، جہاں حوثی حملوں کے باعث پہلے ہی کئی برسوں سے عدم استحکام رہا ہے۔
فضائی کارگو بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عراق اور ایران سمیت کئی ممالک میں فضائی حدود اور ہوائی اڈے بند ہونے کے باعث ہزاروں مسافر اور کارگو پھنس گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی بڑی فضائی کمپنیاں جیسے امارات، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز اپنے کارگو طیاروں کے علاوہ مسافر طیاروں کے ذریعے بھی سامان کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی تجارت میں فضائی کارگو کا حصہ ایک فیصد سے کم ہوتا ہے، تاہم اس کے ذریعے منتقل ہونے والی اشیاء جیسے ادویات، الیکٹرانکس اور زرعی مصنوعات مجموعی عالمی تجارتی قدر کا تقریباً ۳۵فیصد بنتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کے ہوائی اڈے طویل عرصے تک بند رہے تو حساس اور قیمتی اشیاء کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب شپنگ کمپنی میرسک نے بھی خبردار کیا ہے کہ فضائی کارگو کی گنجائش کم ہونے اور طلب بڑھنے کے باعث فضائی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ صورتحال غیر معمولی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں کووڈ بحران اور دیگر جغرافیائی سیاسی تنازعات کے باعث عالمی سپلائی چین پہلے ہی کئی جھٹکوں سے گزر چکی ہے اور صنعت اب اس طرح کی رکاوٹوں سے نمٹنے میں نسبتاً زیادہ لچکدار ہو چکی ہے۔










