’رابطہ منقطع ہو گیا ہے ‘ خدشہ ہے کہ حالات مزید خراب نہ ہوں ‘
ایجنسیز
سرینگر۲؍مارچ
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد وادی کشمیر میں اہل خانہ نے اپنے بچوں کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے فوراً کشمیری طلباء کے انخلا کا مطالبہ کردیا ہے۔
متعدد خاندانوں کے بچے ایران میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور موجودہ کشیدگی کے باعث وہ محفوظ واپس لانے کے لیے حکومت کی مداخلت چاہتے ہیں۔
اسی تناظر میں جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھی اپیل کی ہے کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو حکومت ایک ایمرجنسی انخلا پروگرام تیار کرے تاکہ طلباء کو خیریت سے وطن واپس لایا جا سکے۔
ایران میں تقریباً۱۲۰۰سے۲۰۰۰طلباء، خاص طور پر میڈیکل کے شعبے میں زیرِ تعلیم نوجوان، اب بھی موجود ہیں اور وہ آنے والے دنوں میں صورتِ حال خراب ہونے کے خدشے سے خوفزدہ ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز سے ان کے بچوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ حالات مزید کشیدہ ہونے پر طلباء کو ایران میں رہنا غیر محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک والد نے بتایا، ’ہم بے حد پریشان ہیں۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ہمارے بچوں کو محفوظ طور پر واپس لایا جائے۔‘
حالیہ حملوں کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں تہران سمیت متعدد شہروں میں جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اس بحران نے نہ صرف خطے میں سلامتی کے مسائل کو جنم دیا ہے بلکہ وہاں مقیم غیر ملکی شہریوں خاص طور پر طلباء کی فلاح و سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
حکومت ہند نے پہلے ہی ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ بھارتی سفارت خانہ نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اپنی مشاورت بھی دی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سفارتی مشورے کافی نہیں، عملی اقدام اور فوری انخلا کی مہم شروع کی جائے تاکہ طلباء ہر ممکن خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔
والدین اور اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ حکومت جلد از جلد عملی اقدامات کرے، تاکہ نوجوان طلباء کو اس بحرانی صورتحال سے نکالا جا سکے اور ان کی تعلیم اور مستقبل محفوظ ہو۔










