واشنگٹن، 27 فروری (یو این آئی) صدر ڈونلڈٹرمپ کو وائٹ ہائوس میں ایران اور روس یوکرین پر انٹیلی جنس بریفنگ دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنیوا میں مذاکرات کے تیسرے دور پر بھی بریفنگ دی گئی ہے جو آج ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ کو مشیروں نے تجویز دی ہے کہ ایران پر پہلا حملہ اسرائیل کی جانب سے ہو تو بہتر ہو گا کیونکہ اسرائیلی حملہ ایران کو جوابی کارروائی پر مجبور کرے گا جس سے جوابی کارروائی کےلیے امریکہ میں حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی تجویزپیش کی گئی ہے کہ پہلے امریکہ یا اس کے اتحادی پر حملہ ہو تو زیادہ امریکی عوام جنگ برداشت کرنے کو تیار ہوں گے۔
امریکی اخبار پولیٹیکو کا دعویٰ ہے کہ رائے شماری میں امریکی عوام ایران میں قیادت کی تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں واشنگٹن میں ایران کے ساتھ کشیدگی کے سفارتی حل کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔
ٹرمپ کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ اسرائیل پہلے حملہ کرے پھر جوابی کارروائی پر امریکی حملوں کو سیاسی جواز مل جائے گا۔
اس دوران عرب سفارتکار نے ایران کی جانب سے معاہدے کا مجوزہ مسودہ امریکہ کو پیش کیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا سے گفتگو میں عرب سفارتکار نے بتایا کہ امریکہ کو پیش کیے گئے مجوزہ ایرانی مسودےکے مطابق ایران جوہری افزودگی60 فیصد سے3.6 فیصد تک لےآئےگا۔
عرب سفارتکار کے مطابق ایران نے مستقبل میں جوہری افزودگی7سال معطل رکھنےکی بھی پیشکش کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیاکا کہنا ہے کہ امریکا فی الحال صفر جوہری افزودگی کا مطالبہ نہیں کررہا، امریکہ ایران کا موجود جوہری ذخیرہ بیرون ملک منتقلی کامطالبہ کررہاہے لیکن ایران نے ملک میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران نے انتہائی افزودہ یورینیئم ڈائلیوٹ کرنے کی پیشکش کی ہے جب کہ امریکہ ایرانی جوہری پروگرام 10سال تک معطل کرنے کامطاسرائیلی میڈیا کا کہنا ہےکہ قریبی مدت میں ایران پر امریکی فوجی حملے کا امکان دوبارہ بڑھ گیا ہے۔
البہ کررہا ہے، ایرانی پیشکش امریکی مطالبات کو پورا کرنے کا امکان نہیں رکھتی۔








