کشمیر یونیورسٹی کے اکیسویں کانووکیشن میں نائب صدر ہند سی پی رادھا کرشنن کا خطاب محض رسمی مبارکباد تک محدود نہیں تھا۔ عام طور پر ایسی تقریبات میں الفاظ کی چمک تو ہوتی ہے مگر معنویت کم؛ لیکن اس بار کئی جملے ایسے تھے جو براہِ راست زمینی حقیقتوں کو چھوتے نظر آئے۔
نوجوانوں، والدین، ماحولیات، اختراع، منشیات اور سوشل میڈیا‘ہر موضوع کو ایک وسیع قومی تناظر میں جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطاب کو محض ایک تعلیمی تقریب کی کارروائی نہیں بلکہ ایک سماجی و فکری مداخلت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
نائب صدر نے سب سے پہلے جس نکتے پر زور دیا وہ تھا ’’نوآبادیاتی ذہنیت‘‘ سے آزادی۔ یہ محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ فکری خود اعتمادی کی دعوت ہے۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ سَودیشی اختراعات اور ایسے حل پر توجہ دیں جو بھارتی علم، وسائل اور ضروریات سے جڑے ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر کی نئی نسل اس ذہنی تبدیلی کے لیے تیار ہے؟
کشمیر جیسے خطے میں، جہاں تعلیم کو اکثر سرکاری نوکری کے دروازے تک محدود سمجھا جاتا رہا ہے، اختراع اور کاروباری جرات کی بات ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ کووڈ۔۱۹ کے دوران ویکسین کی تیاری کی مثال دے کر انہوں نے یہ پیغام دیا کہ اگر اعتماد ہو تو عالمی معیار کی کامیابیاں ممکن ہیں۔ ان کا مغربی دنیا کے پیٹنٹ نظام پر تنقیدی اشارہ بھی دراصل اسی خود مختاری کی سوچ کو تقویت دیتا ہے—کہ علم اور ایجاد کو صرف منافع کی منڈی میں قید نہیں ہونا چاہیے۔
نائب صدر نے سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع اور چناب ریل پل جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترقی اور ربط کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ محض انجینئرنگ کے کارنامے نہیں بلکہ ’’دلوں کو جوڑنے‘‘ کے آلات ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ رابطہ بڑھتا ہے تو مواقع بھی بڑھتے ہیں۔
لیکن اسی سانس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاحت کے فروغ کے دوران ریاست کے ماحولیاتی نظام کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ جملہ کشمیر کے موجودہ حالات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں کئی ترقیاتی منصوبوں—خصوصاً ریلوے توسیع‘کو جنگلات اور زرعی زمینوں کے ممکنہ نقصان کے باعث شدید عوامی اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض منصوبے منسوخ بھی ہوئے۔ ایسے میں ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن کی تلقین ایک اعتراف بھی ہے کہ بے لگام تعمیرات طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔
کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا ستون سیاحت ہے، مگر اگر گلیشیئر سکڑتے جائیں، جھیلیں آلودہ ہوں اور جنگلات کم ہوتے رہیں تو یہی صنعت سب سے پہلے متاثر ہوگی۔ لہٰذا ماحولیاتی حساسیت کو پالیسی کے مرکز میں رکھنا ناگزیر ہے۔
نائب صدر نے منشیات کے مسئلے کو کھل کر چھیڑا۔ یہ شاید ان کے خطاب کا سب سے دردناک اور زمینی پہلو تھا۔ کشمیر میں منشیات کا پھیلاؤ محض قانون و انتظام کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو یاد دلایا کہ والدین بڑھاپے میں ان کے سہارے کی امید رکھتے ہیں۔ یہ اپیل جذباتی بھی تھی اور اخلاقی بھی۔
ہر مذہب کی تعلیمات کا حوالہ دے کر انہوں نے نشے کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا۔ مگر اصل چیلنج وعظ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا ہے—بحالی مراکز کی تعداد، آگاہی مہمات، اور نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع۔ اگر روزگار اور مقصدیت میسر نہ ہو تو محض نصیحت دیرپا اثر نہیں ڈال سکتی۔
نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال کی تلقین بھی بروقت تھی۔ ایک ایسے دور میں جب ورچوئل دنیا اصل زندگی پر غالب آتی جا رہی ہے، یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ ڈیجیٹل موجودگی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ کشمیر جیسے حساس خطے میں سوشل میڈیا کبھی کبھار افواہوں اور اشتعال کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے ’’حد‘‘ کا تصور محض ذاتی نظم و ضبط نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔
’’میرا کشمیر نہیں، تمہارا کشمیر نہیں، ہمارا کشمیر‘‘یہ تین سطریں شاید اس خطاب کا نچوڑ تھیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں شناخت اور ملکیت کے سوالات سیاسی بحث کا محور رہے ہیں، ’’ہمارا‘‘ کی اصطلاح اشتراک اور شمولیت کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے ایک بھارت شریشٹھ بھارت جیسے تبادلوں کا ذکر کر کے اس پیغام کو مزید تقویت دی کہ جمہوریت میں دوسروں کے جذبات کا احترام بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اپنے جذبات کا۔





