ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۵فروری//
ایک ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے جاپان کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ مارچ 2031 تک تائیوان کے قریب واقع اپنے دور دراز مغربی جزیرے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جاپان نے سنہ 2022 میں پہلے اعلان کے بعد یوناگونی جزیرے پر میزائل تعیناتی کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دی ہو۔
چین خود مختار تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ’دوبارہ اتحاد‘ کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کرتا۔
جزیرہ یوناگونی تائیوان کے ساحل سے صاف موسم میں نظر آتا ہے کیونکہ یہ اس سے صرف 110 کلومیٹر (68 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
گذشتہ برس نومبر سے ٹوکیو اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی اس وقت سے عروج پر ہے جب جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی نے یہ اشارہ دیا تھا کہ تائیوان پر حملے کی صورت میں جاپان اپنی سیلف ڈیفنس فورس کو متحرک کر دے گا۔
جاپان کے وزیرِ دفاع شنجیرو کوئزومی نے منگل کے روز یوناگانی جزیرے پر میزائلوں کی تنصیب کی ٹائم لائن کا اعلان اس وقت کیا تھا جب چین نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے 20 جاپانی کمپنیوں اور اداروں پر برآمدی پابندیاں عائد کی تھیں۔
کوئزومی نے کہا کہ یوناگونی کو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس کیا جائے گا، جو آنے والے طیاروں اور میزائلوں کو روک سکیں گے۔
تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کے ساتھ جاپانی ساختہ میزائل نظام بیک وقت 100 تک اہداف کا سراغ لگا سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں 12 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
چین نے ابھی تک کوئزومی کے اعلان پر ردِعمل نہیں دیا ہے۔ لیکن جب کوئزومی نے نومبر میں یوناگونی کا دورہ کیا تھا تو بیجنگ نے کہا تھا کہ جاپان ’علاقائی کشیدگی پیدا کرنے اور عسکری تصادم کو ہوا دینے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
اس پیش رفت کے چند ہی دنوں بعد چین نے اس جزیرے کے قریب ڈرونز کو متحرک کر کے اپنا غصہ ظاہر کیا تھا، جس کے جواب میں جاپان کو اپنے لڑاکا طیاروں کو متحرک کرنا پڑا تھا۔
گذشتہ دہائی کے دوران جاپان نے پُرسکون سمجھے جانے والے یوناگونی جزیرے کو ایک فوجی چیک پوسٹ میں میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں سے ساحلی علاقوں کی نگرانی کی جاتی ہے اور یہاں جاپان کی سیلف ڈیفنس فورس کے تقریباً 160 اہلکار تعینات ہیں۔
ایک الیکٹرانک وارفیئر یونٹ، جو دشمن کی مواصلاتی نظام اور ریڈار کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا، مالی سال 2026 میں وہاں قائم کیا جائے گا۔
جاپانی وزیرِ دفاع کوئزومی کا کہنا ہے کہ یوناگونی جزیرے پر میزائل یونٹ کی تعیناتی کا وقت تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔









