(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۱فروری//امریکی صدر ڈونلڈ َٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے ہونے والی بات چیت کے اختتام پر ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا، ’ کیا آپ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے محدود پیمانے پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟‘
اس سوال پر صدر ٹرمپ نے کچھ لمحوں کا وقفہ لیا اور کہا ’میرے خیال میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کے ایسا سوچ رہا ہوں۔‘
اس سے قبل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ممکنہ کارروائی میں محدود پیمانے پر فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر تہران معاہدے کی تعمیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو بعد میں حملوں کو وسعت دی جائے گی جس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہو گا۔
تاہم وال سٹریٹ جنرل کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی بھی حملے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن وہ ایک مختصر مدت کی مہم سے لے کر ایرانی فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑی مہم تک کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب جمعہ کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ایک ’ممکنہ معاہدے کے مسودے‘ پر کام کر رہا ہے اور اگلے چند دنوں میں اسے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے حوالے کر دیا جائے گا۔
ایک طرف جہاں جنیوا میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ مذاکرات ہو رہے ہیں وہیں امریکہ نے ایران کے اطراف میں اپنی افواج کی تعیناتی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی شامل ہے جو رفتہ رفتہ خطے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس دوران اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج ’دفاعی الرٹ‘ کی پوزیشن پر ہے تاہم شہریوں کے لیے کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈفرین کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے، ’ہم خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے حوالے سے تمام صورتحال سے آگاہ ہیں۔ اسرائیلی فوج دفاعی الرٹ کی پوزیشن پر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر چیز کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ’پہلے سے کہیں زیادہ، آپریشنل صورتحال میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کا جواب دینے کے لیے ہماری انگلی ٹریگر پر ہے۔‘
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں فی الحال شہریوں کے لیے کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔








