ماسکو /20فروری //
روسی وزارت خارجہ نے آج اپنے ٹیلی گرام چینل کے ذریعے اعلان کیا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں بات کی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ایران پر امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں خطے میں خلیجی عرب ممالک کے ردعمل پر گہری نظر رکھتا ہوں۔ کوئی بھی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ سب جانتے ہیں کہ یہ آگ سے کھیل رہا ہے۔‘
روسی وزیر خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافہ حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے مثبت اقدامات کے اثرات کو ختم کر رہا ہے جن میں ایران کے پڑوسی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری شامل ہے۔
دریں اثنا ایران کے وزیر تیل نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون ممکن ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ’النا‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر تیل محسن پاکنزاد نے کہا کہ تیل اور گیس کے شعبوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعاون کے امکانات کے حوالے سے ’سب کچھ ممکن ہے۔‘
محسن پاکنزاد نے اس طرح کے تعاون کے آغاز کے لیے وقت نہیں بتایا۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے اقتصادی امور حامد غنباری نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تیل اور گیس کے شعبوں، کان کنی میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری میں مشترکہ مفادات کو شامل کیا گیا ہے۔‘
اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے جوہری معاہدے میں امریکہ کو اقتصادی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا لیکن ’اس بار معاہدے کے پائیدار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کو بھی اس معاہدے سے فائدہ پہنچے۔‘








