واشنگٹن، 14 فروری (یو این آئی) آئندہ منگل کو جنیوا میں دو علیحدہ اور اہم سفارتی مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ایران اور یوکرین کے بحرانوں کا حل تلاش کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے تہران کو سختی سے خبردار کیا گیا ہے اور خطے میں کشیدگی کے باعث وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق منگل کی صبح امریکی وفد، جس میں مقتدر نمائندے اسٹیف وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، ایرانی نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔ یہ ملاقات اس مکالمے کا تسلسل ہے جس کا آغاز 6 فروری کو سلطنت عمان میں ہوا تھا۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل سرگرمیوں پر کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
اسی دن دوپہر کے بعد، وٹکوف اور کشنر روس اور یوکرین کے نمائندوں کے ساتھ ایک سہ فریقی ملاقات میں شرکت کریں گے۔ یہ کوشش تقریباً چار سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ کی سفارتی تگ و دو کا حصہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ایران کو واضح پیغام دیا کہ اگر ایک ماہ کے اندر معاہدہ نہ ہوا تو تہران کو "انتہائی دردناک نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا "ہمیں ہر صورت ایک معاہدہ کرنا ہے، ورنہ نتائج بہت سخت ہوں گے۔”
مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی انتظامیہ نے فوجی نقل و حرکت بھی تیز کر دی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جيرالڈ آر. فورڈ” مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔
یہ بحری جہاز بحیرہ عرب میں پہلے سے موجود "ابراہم لنکن” کے ساتھ شامل ہو کر خطے میں امریکی طاقت میں اضافہ کرے گا۔
بین الاقوامی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ اگر جنیوا میں ہونے والے یہ سیاسی مذاکرات ناکام ہوئے تو مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی بد امنی اور تصادم کا آغاز ہو سکتا ہے۔









