’حکومت نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور انہیں غلط راستے پر جانے سے روکنے کے لیے کام کر رہی ہے‘
سرینگر: مرکزی حکومت نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ۳۷۰ہٹنے کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں روزگار میں اضافہ ہوا ہے اور بے روزگاری میں کمی آئی ہے۔
محنت و روزگار کی وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مالی سال۲۰۔۲۰۱۹میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 4.8 فیصد تھی جو۲۴۔۲۰۲۳میں گھٹ کر 3.2 فیصد رہ گئی۔ اس دوران جموں و کشمیر میں یہ شرح 6.7 فیصد سے کم ہو کر 6.1 فیصد پر آ گئی ہے۔
اس عرصے کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے میں جہاں پرائمری سطح (پانچویں جماعت) تک تعلیم یافتہ افراد کی بے روزگاری کی شرح 0.4 فیصد سے بڑھ کر 0.6 فیصد ہو گئی، وہیں اس سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی بے روزگاری کی شرح میں کمی آئی ہے۔
ایک ضمنی سوال کے جواب میں محترمہ کرندلاجے نے بتایا کہ ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ کے تحت پچھلے سال جموں و کشمیر میں 1.60 لاکھ نئے ملازمین جڑے تھے۔ ادیم پورٹل پر جموں و کشمیر کے 8.2 لاکھ درمیانے اور چھوٹے اداروں نے رجسٹریشن کرایا تھا جنہوں نے بتایا ہے کہ ان کے ہاں 32.30 لاکھ لوگ روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ کریڈٹ گارنٹی یوجنا کے تحت۴۰ہزار۳۹۰کروڑ روپے کا قرض دیا گیا ہے۔
موصوفہ نے بتایا کہ پردھان منتری وشوکرما یوجنا کے تحت جموں و کشمیر کے 1.5 لاکھ لوگوں نے درخواست دی تھی جن میں سے 1.3 لاکھ لوگوں کو تربیت دی گئی،۹۰ ہزار لوگوں کو تربیت کے بعد ٹول کٹ تقسیم کی گئیں اور۱۴ہزار۳۷۵لوگوں کو اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے قرض دیے گئے۔
ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں نو کلسٹر تیار کیے جا رہے ہیں جس سے مقامی مصنوعات کو فروغ ملے گا، ان کی برآمد بھی ہوگی اور وہاں کے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔
کرندلاجے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور انہیں غلط راستے پر جانے سے روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
خاتون وزیر مملکت نے کہا کہ ایک وقت تھا جب جموں و کشمیر میں پتھراؤ کے واقعات عام دیکھے جاتے تھے، مگر اب مرکز کے زیر انتظام علاقہ روزگار پیدا کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
کرندلاجے نے کہا’’ہم وزیر اعظم کی قیادت میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو قومی دھارے میں لانے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ وہ غلط راستے پر نہ جائیں‘‘۔انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے اور اپوزیشن کچھ بھی کہے ہم یہ کام جاری رکھیں گے۔
موصوفہ نے کہا’’آپ ہمیشہ رکاوٹ بنتے رہے اور مشکلات پیدا کرتے رہے، لیکن ہمارا مقصد جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو بچانا اور انہیں نیا روزگار فراہم کرنا ہے۔
کرندلاجے نے کہا کہ مودی حکومت مختلف اسکیموں کے ذریعے جموں و کشمیر کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔’’پہلی بار جموں و کشمیر بینک نے کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت تقریباً۱۴ہزار۴۹۰کروڑ روپے دیے ہیں۔ یہ ملک میں سب سے زیادہ ہے‘‘۔
وزیر مملکت نے بتایا’’ہم نے جموں و کشمیر میں کرکٹ بیٹ سازی کے لیے نو علیحدہ کلسٹر بھی قائم کیے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’میں ایک مثال دے سکتی ہوں، جب میری ایک لڑکی سے پرواز میں ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں ایک وزیر اعظم جموں و کشمیر کے بچوں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
جمعرات کو وقفہ سوالات کے دوران وزیر اعظم مودی راجیہ سبھا میں موجود تھے۔
کرندلاجے نے کہا کہ کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت ملک بھر میں کاروباری افراد کو۱۲لاکھ کروڑ روپے کے قرضے دیے گئے ہیں اور جموں و کشمیر میں بھی قرض فراہم کیے گئے ہیں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ پی ایم ایمپلائمنٹ جنریشن اسکیم کے تحت تقریباً 10.5 لاکھ کاروباریوں کو۲۹ہزار کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی اور ایک کروڑ یونٹس کی مدد کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں۷۳ہزار۳۴۹یونٹس کو سبسڈی اور کم سود قرضوں کے ذریعے مدد دی گئی ہے، جن میں۴۳۹۴کروڑ روپے کے قرض شامل ہیں، جن میں سے۱۵۳۰کروڑ روپے سبسڈی ہے۔










