سرینگر: جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو واضح کیا کہ ویب سائٹس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن نیوز چینلز کا ضابطہ محکمہ اطلاعات کے مینڈیٹ میں شامل نہیں ہے، حتیٰ کہ اس نے انکشاف کیا کہ اپریل۲۰۲۵ سے اب تک جعلی خبروں اور غلط معلومات کے خلاف۲۸تردیدی بیانات جاری کیے جا چکے ہیں۔
بی جے پی کے ایم ایل اے‘ آر ایس پٹھانیا کے تحریری سوال کے جواب میں حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز(ڈی آئی پی آر ) نے جعلی یا گمراہ کن خبروں پر حقیقی وقت میں نظر رکھنے کے لیے ایک مخصوص میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کیا ہے۔
محکمے نے بتایا کہ جب بھی جعلی یا گمراہ کن مواد کا پتہ چلتا ہے، سرکاری پریس ریلیزز اورڈی آئی پی آر کے سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے تردید یا حقائق کی وضاحت (فیکٹ چیک کلیریفیکیشن) جاری کی جاتی ہے۔
تاہم، اس نے واضح طور پر کہا کہ ویب سائٹس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بشمول آن لائن نیوز چینلز اور فیکٹ چیک یونٹس(ایف سی یوز) کا ضابطہ محکمہ اطلاعات کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔
جواب میں کہا گیا’’ڈی آئی پی آر کی طرف سے یکم اپریل۲۰۲۵سے۳۱جنوری۲۰۲۶کے دوران جعلی خبروں/غلط معلومات کے حوالے سے۲۸تردیدی بیانات جاری کیے گئے۔ بیس پریس ریلیزز کے ذریعے اور آٹھ سرکاری سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے جاری کیے گئے‘‘۔
حکومت نے مزید بتایا کہ تمام محکموں میں محکمہ جاتی جعلی خبروں کی نگرانی اور مربوط ردعمل کے لیے ایک مخصوص پورٹل پر تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے لیے نوڈل افسران مقرر کیے گئے ہیں۔
اس نے یہ بھی واضح کیا کہ جعلی خبریں پھیلانے والی تنظیموں یا افراد پر جرمانے عائد کرنا محکمہ اطلاعات کے مینڈیٹ میں شامل نہیں ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ محکمہ کسی بھی نجی فیکٹ چیکنگ یونٹ کو تسلیم یا اختیار نہیں دیتا اور نہ ہی کسی اجازت نامے سے پہلے نجی ایف سی یوز کی تصدیق یا درجہ بندی کرتا ہے۔
نئے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر، حکومت نے کہا کہ مسودہ نئی میڈیا پالیسی۲۰۲۶ یں پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ نئے اور سوشل میڈیا کو شامل کرنے والے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل کے لیے مناسب دفعات تجویز کی گئی ہیں۔
مسودہ پالیسی اس وقت حتمی شکل دینے کے لیے بین المحکمہ جاتی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔
سائی بر سیکیورٹی تیاریوں کے حوالے سے، حکومت نے بتایا کہ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اشتراک سے جامع اور کثیر الجہتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اسٹیٹ ڈیٹا سینٹر اور این آئی سی منی ڈیٹا سینٹر پر میزبان ویب سائٹس اور ویب ایپلیکیشنز کے لازمی سیکیورٹی آڈٹ کیے گئے ہیں، جبکہ بے کار ویب سائٹس کو غیر فعال یا ڈی این ایس ڈی میپ کر دیا گیا ہے۔
سائی بر سیکیورٹی گورننس کو چیف سیکرٹری کی زیر صدارت ماہانہ جائزہ اجلاسوں، سیکرٹری، آئی ٹی محکمہ کی زیرقیادت انفارمیشن سیکیورٹی اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام، اور تمام محکموں اور اضلاع میں انٹرنل سیکیورٹی آفیسرز اور تکنیکی ماہرین کی تعیناتی کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔
حکومت نے مزید بتایا کہ تمام محکموں کی طرف سے سائی بر کرائسز مینجمنٹ پلان تیار کر لیے گئے ہیں اور مرکزی عملداری میں باقاعدہ صلاحیت سازی کے اقدامات، سائبر ڈرلز، آگاہی پروگرام اور آئی گاٹ پلیٹ فارم پر لازمی کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
جواب میں مزید کہا گیا کہ سائی بر اثاثوں کی نگرانی اور انوینٹری مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کے لیے ای-سکیورٹی اسسمنٹ اینڈ مینیجمنٹ (ای سیم) پورٹل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔










