جموں:جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض لیڈران کے بیانات کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے رہنما سنیل شرما نے پیر پنچال خطے اور اُن کی ذاتی حیثیت کے بارے میں غیر مہذب زبان استعمال کی، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر لیڈر آف اپوزیشن ہی اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو پھر بی جے پی سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ایوان میں کسی بھی طرح کی غلط بیانی نہیں کی، جبکہ بی جے پی کی جانب سے پیش کیے جارہے اعتراضات بنیاد سے عاری اور سمجھ سے بالاتر ہیں۔
چودھری نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کوئی حقیقی مدعا نہیں، اسی لیے وہ غیر ضروری تنازعات کھڑے کرکے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایوان عوامی مسائل اجاگر کرنے کی جگہ ہے، نہ کہ سیاسی الزام تراشیوں کا میدان۔
نائب وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ چند مخصوص صحافی ایوان کے آس پاس غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور اپنی موجودگی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ صحافی یہاں پورا دن چائے پیتے ہیں، ان کا مقصد صحافت نہیں بلکہ بلیک میلنگ ہے اور وہ خود پیرول پر ہیں۔
چودھری نے صحافت کی آڑ میں منفی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد نہ صرف صحافتی وقار کو مجروح کر رہے ہیں بلکہ ایوان میں غیر ضروری ماحول پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ یہاں بکواس کرنے آتے ہیں۔ ان سے پوچھیں کہ جموں کے مسائل کیا ہیں؟ ماتا ویشنو دیوی کا اتنا بڑا مسئلہ ہے لیکن وہ اس پر بولنے کی بجائے بے بنیاد خبریں اور ذاتی مفادات کے لیے خبریں چلاتے ہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ چند نام نہاد صحافی لوگوں سے پیسے وصول کر نیوز چلاتے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ ان کے پیچھے کون لوگ سرگرم ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان سے ڈرنے والے نہیں۔
سریندر چودھری نے پیشہ ورانہ اور ذمہ دار میڈیا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان صحافیوں کا احترام کرتی ہے جو سیکولر نظریات، دیانت اور وطن کی مضبوطی و بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مثبت اور ذمہ دار صحافت ریاست کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر چند عناصر کے رویّے سے پورا شعبہ بدنام نہیں ہونا چاہیے۔
نائب وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں حکومت اس مسئلے پر مزید وضاحت پیش کرے گی۔
چودھری نے مزید کہا کہ ماتا ویشنو دیوی یاترا کے انتظامات اور وہاں درپیش مسائل ایک بڑا مدعا ہے، لیکن بی جے پی اس پر سنجیدگی سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے مطابق حزبِ اختلاف کو عوامی مفاد کے موضوعات کو اٹھانا چاہیے، مگر وہ غیر متعلقہ مباحثے چھیڑ کر ایوان کا قیمتی وقت ضائع کر رہی ہے۔










