چنڈی گڑھ، 9 فروری (یواین آئی) فرید آباد کی انتہائی محفوظ نیمکا جیل میں بند دہشت گردی کے ایک ملزم عبدالرحمان کا اتوار کی دیر رات ایک دیگر قیدی کے ہاتھوں قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کا انکشاف پیر کی صبح اس وقت ہوا جب جیل انتظامیہ کو بیرک میں اس کی لاش ملی۔ حملے کے ملزم کی شناخت ارون چودھری کے طور پر ہوئی ہے، جسے حال ہی میں جموں و کشمیر سے نیمکا جیل منتقل کیا گیا تھا۔
جیل ذرائع کے مطابق، رحمان پر ایک نوکیلے اور ہاتھ سے بنائے گئے ہتھیار سے اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ الٹرا ہائی سیکیورٹی سیل میں بند تھا۔ اسی خصوصی سکیورٹی یونٹ میں ارون چودھری کو بھی رکھا گیا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جیل افسر اور مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی سول اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ جیل کے خصوصی سکیورٹی ونگ نے اس معاملے میں سکیورٹی کی کوتاہی کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اتر پردیش کے ملکی پور کا رہائشی 19 سالہ عبدالرحمان گزشتہ سال 2 مارچ کو ہریانہ اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف)، گجرات اے ٹی ایس اور انٹیلی جنس بیورو (آئی) کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر برصغیر میں القاعدہ سے وابستہ ہونے اور ابو سفیان نامی آپریٹو کی ہدایات پر کام کرنے کا الزام تھا۔ گرفتاری کے وقت سکیورٹی ایجنسیوں نے اس کے قبضے سے دو زندہ ہینڈ گرنیڈ اور ڈیٹونیٹرز برآمد کیے تھے۔ ایجنسیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ ایودھیا کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے بنیاد پرست نظریات سے متاثر ہوا تھا۔ملزم ارون چودھری عرف ابو جٹ جموں کے آر ایس پورہ علاقے کا رہائشی ہے۔ اس کے خلاف قتل اور جبری وصولی سمیت کئی سنگین مجرمانہ معاملے درج ہیں، جن میں سامبا کا مشہور اکشے شرما قتل کیس بھی شامل ہے۔ اکتوبر 2024 میں اسے کٹھوعہ جیل سے نیمکا جیل لایا گیا تھا۔ اس سے قبل 2024 کے آغاز میں وہ کٹھوعہ جیل کے اندر سے انسٹاگرام پر لائیو آکر جیل عملے پر بدعنوانی کے الزامات لگا کر سرخیوں میں آیا تھا۔ فرید آباد کے ڈبوا تھانے میں رحمان کے خلاف آرمز ایکٹ اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت پہلے ہی مقدمہ درج تھا۔ انتظامیہ اب حملے کے پیچھے کے مقصد کی جانچ کر رہی ہے اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ہائی سکیورٹی زون میں ملزم کے پاس نوکیلی چیز کیسے پہنچی۔










