نئی دہلی، 06 فروری (یواین آئی) بچوں کی دیکھ بھال کی رخصت اور زچگی رخصت کی طرز پر سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کو بزرگ والدہ کی دیکھ بھال کے لیے بزرگ دیکھ بھال رخصت دینے کا مطالبہ جمعہ کو راجیہ سبھا میں کیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سمترا والمیکی نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں بزرگ شہریوں کی تعداد 14.2 فیصد ہے اور سال 2036 تک ان کی تعداد 28 کروڑ ہونے کا اندازہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان بزرگوں کے بچے روزگار کے لیے اپنے صوبوں سے دوسری جگہوں پر جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بزرگ اکیلے رہ جاتے ہیں اور بیماری کے وقت ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ 60 سال سے زیادہ عمر کے سنگین بیماریوں میں مبتلا بزرگوں کے لیے ان کے بیٹے یا بیٹی کا ان کے پاس ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن انہیں رخصت نہیں مل پاتی۔ اس لیے وہ اپنے بزرگ والدین کی ضرورت کے وقت دیکھ بھال نہیں کر پاتے۔
بی جے پی رکن نے کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے حکومت کو سرکاری اور نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین جن کے والدین کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے، ان کے لیے 45 دن کی بزرگ دیکھ بھال رخصت کی سہولت شروع کرنی چاہیے۔
کانگریس کے راجیو شکلا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے واضح پالیسی اور جوابدہی کا نظام یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی واضح قوانین، پالیسی اور جوابدہی نہ ہونے کی وجہ سے ان پر کوئی قابو نہیں ہے جس سے لوگ خاص طور پر بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے غازی آباد میں تین بہنوں کی آن لائن گیمنگ کی لت کے باعث موت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ بچے افواہوں اور جھوٹ کی وجہ سے کھیل کی عادت کے شکار ہو گئے اور انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سبھاش برالا نے ایسے اشتہارات پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جو بچوں کو پیکٹ اور ڈبہ بند نقصان دہ بسکٹ، نمکین اور دیگر غذائی اشیاء کھانے کے لیے لالچ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بچوں میں غذائی قلت بڑھ رہی ہے۔
اسی پارٹی کے سدانند مہالو نے سیاحتی مقامات پر سائبر دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے سیاحوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بڑھتے ہوئے معاملات سے سیاحت کا شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بی جے پی کے ہی متھیلیش کمار نے ملک بھر میں گؤشالاؤں میں گوالوں کی تقرری کیے جانے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے ہی ڈاکٹر بھیم سنگھ نے بہار کے ایتھنال کارخانوں سے ایتھنال کی خرید کم کیے جانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ کارخانے بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور ملازمین کے روزگار پر سوال کھڑا ہو گیا ہے۔










