سرینگر: جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ایم ایل اے ہندوارہ سجاد غنی لون نے جمعے کے روز مرکزی حکومت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے عوام کے لیے معنی خیز تبدیلی لانے میں ناکام ایک اور گہری مایوسی قرار دیا۔
سخت الفاظ پر مشتمل ایک بیان میں، لون نے اس بجٹ کو کسی حقیقی سیاسی بصیرت یا مشورے سے یکسر عاری قرار دیا، جو پہلے کی طرح انتہائی بیوروکریٹک اور غیر متاثر کن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دارانہ بجٹ ایک بہادر اور جامع پیکیج کے طور پر سامنے آنا چاہیے تھا، جو جامعیت کو فروغ دے، فی کس آمدنی بڑھانے کی صلاحیت رکھنے والے اعلیٰ ممکنہ شعبوں کو نشانہ بنائے، روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرے، بحالی کی کاوشوں کی حمایت کرے اور بڑھتی ہوئی آمدنی کے فرق کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ ان کا الزام تھا کہ اس کے برعکس، یہ دستاویز ایسی تمام تر بلند خیالی اور رہنمائی سے حیرت انگیز طور پر خالی ہے۔
لون نے کئی واضح غفلتوں اور ٹوٹے وعدوں کی طرف توجہ دلائی جو عام شہریوں کا بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ گھریلو صارفین کو۲۰۰یونٹ مفت بجلی کی طویل عرصے سے چلی آ رہی مانگ پوری کرنے میں حکومت ایک بار پھر ناکام رہی ہے، اور اس نے مرکز کے زیرِ حمایت ایک اسکیم سے منسلک ایک اور مبہم وعدے کے سوا کچھ نہیں دیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے گزشتہ سال دیا تھا۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا’’ہزاروں روز مرہ مزدوروں، جو غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں، کے باقاعدہ ملازمت میں لانے کے لیے کوئی ٹھوس شق نہیں ہے، نہ ہی سنگین محاذوں پر کام کرنے والے اہم کارکنان جیسے آنگن واڑی ورکرز (اے ڈبلیو ڈبلیو)، آشا ورکرز، اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کے عملے کے لیے مناسب کم سے کم معاوضہ طے کرنے کا کوئی تجویز ہے‘‘۔
مزید برآں، لون نے نشاندہی کی کہ نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور میں نئی ملازمتوں کے پیدا کرنے کا وعدہ خاموشی سے پس پشت ڈال دیا گیا ہے، اور انتظامیہ گزیٹڈ اور غیر گزیٹڈ خالی ملازمتوں کے معمول کے اشتہارات کو ایک سطحی چھلاوا کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا’’اس سے بھی زیادہ پریشان کن چھپی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ تقریباً۲۵۰۰۰سرکاری عہدے مؤثر طریقے سے نجی اداروں کو آؤٹ سورس کر دیے گئے ہیں، جس سے مزدوروں کے استحصال اور عدم تحفظ کی ایک تازہ لہر کے دروازے کھل گئے ہیں، جب کہ روز مرہ مزدور پہلے ہی مسائل جھیل رہے ہیں‘‘۔
لون نے کہا کہ گزشتہ سال کے وعدے، جیسے۱۲مفت ایل پی جی سلنڈر، پراسرار طور پر سکڑ کر صرف انتدوایا انا یوجنا (اے اے وائی) کے فائدہ اٹھانے والوں تک محدود ہو گئے ہیں، جس سے آبادی کا بڑا حصہ سہولت سے محروم رہ گیا ہے۔
لون نے خبردار کیا،’’فصلوں میں تنوع اور اعلیٰ قیمت والی باغبانی کی طرف منتقلی کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی کوششیں زیادہ تر سطحی ہیں۔ یہ بیوروکریٹک تاخیروں اور کھوکھلے بیانیے میں گم ہو کر زمینی حقیقت میں تبدیلی لانے سے رہ جانے کا امکان ہے‘‘۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شہروں اور قصبوں میں آباد اکثریت کے لیے سستی اور معزز رہائش کا حصول ایک خواب ہی رہا ہے، اور اس اہم شہری چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوئی نئی یا معنی خیز قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا’’چھوٹے تاجر، دکان دار اور ٹرانسپورٹرز جو مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، کاروبار کو آسان بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ زیادہ ریگولیشن کی طرف بڑھتے ہوئے کاروبار کو گھٹن کا شکار بنایا جا رہا ہے‘‘۔
لون نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے خوب تشہیر کیے گئے سیاحوں کے اعداد و شمار کو جان بوجھ کر حقیقی سیاحوں کے بجائے زائرین کے آمد و رفت کے اعداد و شمار میں ملا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’غیر زائرین سیاحت کی اصل کہانی، جو مرتب نہیں کی گئی ہے یا جان بوجھ کر چھپائی گئی ہے‘‘۔
اپنی بات ختم کرتے ہوئے، سجاد لون نے اعلان کیا کہ معاشی اعتبار سے، یہ بجٹ گزشتہ بجٹ کی طرح ہی بنجر اور غیر مؤثر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے موجود حقیقی مسائل کا سامنا کرنے کی بلند خیالی یا کوشش کا کوئی بہانہ تک موجود نہیں ہے۔ صرف وہی بیوروکریٹک جمود جس نے ترقی اور امید کو طویل عرصے سے مایوس کیا ہے۔‘‘
دوسری جانب قائد حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعہ کو جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے بجٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’نیشنل کانفرنس مرکوز‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں، بے روزگار نوجوانوں، بی پی ایل اور ای ڈبلیو ایس خاندانوں کے لیے کچھ بھی نہیں رکھا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے دعویٰ کیا کہ بجٹ نیشنل کانفرنس کے ارکانِ اسمبلی کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ مرکز کی جانب سے مختص فنڈز این سی کے زیر قبضہ حلقوں کی طرف موڑ دیے گئے۔
بی جے پی لیڈر نے کہا’’یہ این سی ایم ایل ایز کا بجٹ ہے۔ جموں و کشمیر کے عام لوگوں کے لیے اس میں کچھ بھی نہیں‘‘۔
شرما نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے ساتھ دھوکہ کیا کیونکہ مستقل کرنے کی واضح اور مقررہ مدت کی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا’’ڈیڑھ سال سے ڈیلی ویجرز کو جھوٹے وعدے دیے جا رہے ہیں۔ ‘مرحلہ وار طریقہ’ کا اصل مطلب کیا ہے، اس پر کوئی وضاحت نہیں‘‘۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے یہ بھی کہا کہ بجٹ بے روزگاری کو نظر انداز کرتا ہے اور۱۸۰دن کے اندر اسامیاں پُر کرنے کے پہلے وعدوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے تقریباً۲۴ہزار ملازمتوں کو آؤٹ سورس کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے میرٹ اور شفاف بھرتی کا عمل نظر انداز ہوتا ہے۔
شرما نے سوال کیا’’نہ تحریری امتحان، نہ انٹرویو، نہ درخواست کا عمل پھر منصفانہ مقابلہ چاہنے والے باصلاحیت نوجوانوں کا کیا ہوگا؟‘‘انہوں نے حالیہ بھرتیوں میں اقربا پروری کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ بجٹ میں سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے واضح روڈ میپ موجود نہیں۔ بجٹ کو ’عوام مخالف‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے انتودیہ انا یوجناکے مستفیدین سے کیے گئے وعدوں کے پورا نہ ہونے پر مایوسی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ مفت بجلی اور ایل پی جی سلنڈروں کے وعدے نافذ نہیں کیے گئے۔
بی جے پی لیڈر نے الزام لگایا’’پچھلے سال۲۰۰یونٹ مفت بجلی کا وعدہ کیا گیا مگر کسی کو نہیں ملی۔ اب چھ ایل پی جی سلنڈروں کا معاملہ بھی غیر واضح ہے۔ یہ دھوکہ ہے‘‘۔
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو مایوس کیا گیا اور حکومت پر ووٹروں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے مزید کہا’’یہ بجٹ مایوس کن ہے اور حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔‘‘










