جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما سنیل شرما نے منگل کے روز کہا کہ جموں خطے میں نیشنل لا یونیورسٹی کا قیام وقت کی اشد ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ ان کے مطابق جموں کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوتی رہی ہے اور بنیادی تعلیمی ڈھانچے کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق ہے۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی اس مطالبے پر ’چٹان کی طرح‘ قائم ہے اور چاہتی ہے کہ جموں کو وہی تعلیمی مواقع ملیں جو کشمیر میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی تعلیمی توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نیشنل لا یونیورسٹی کا قیام جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی عمل میں لایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ سیاست دان ایسے ہیں جو ’جموں کو تقسیم کرنے‘ کی کوششوں میں مصروف ہیں، جو کہ خطے کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایسی کوششوں کے خلاف کھڑی ہے اور جموں کے حق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
دفعہ۳۷۰کی بحالی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں شرما نے کہا کہ گزشتہ روز نیشنل کانفرنس کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویز نے عوام کے اندر ناراضگی پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی ناراضگی کے سبب نیشنل کانفرنس ارکان نے اسمبلی میں احتجاجی رویہ اختیار کیا۔
شرما نے۳۷۰سے متعلق این سی کے مؤقف پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام کے جذبات کو مشتعل کرنا اور گمراہ کن دستاویزات پیش کرنا سیاسی مفاد پرستی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے پاس آگے بڑھنے کا راستہ امن، ترقی اور مستحکم گورننس میں ہے، نہ کہ پرانے مباحث کو دوبارہ زندہ کرنے میں۔
بات چیت کے دوران شرما نے کانگریس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود ’اپنی آواز بلند کرنے میں ناکام‘ ہے۔
بی جے پی لیڈر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’کانگریس کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ نہ گھر کی رہی، نہ گھاٹ کی۔ ان کے اپنے ارکان کو بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور پارٹی اندرونی طور پر انتشار کا شکار ہے‘‘۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی جموں کے مفادات کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہے گی اور تعلیمی و سیاسی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام پر جلد مثبت فیصلہ لے گی تاکہ جموں کے طلبہ کو اعلیٰ قانونی تعلیم کے لیے خطے سے باہر نہ جانا پڑے۔










