موصوفہ کا یہ مسلسل نواں بجٹ ہو گا‘ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ اتوار کو پیش کیا جارہا ہے
نئی دہلی: وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری کو لگاتار نویں مرتبہ عام بجٹ پیش کریں گی، جس میں ترقی کی رفتار برقرار رکھنے، مالیاتی نظم و ضبط قائم رکھنے اور ایسی اصلاحات شامل کیے جانے کی توقع ہے جو عالمی تجارتی کشیدگی، بالخصوص امریکی محصولات، کے اثرات سے معیشت کو بچانے میں مددگار ثابت ہوں۔
اپریل۲۰۲۶سے مارچ۲۰۲۷ کے مالی سال کا بجٹ اتوار کے روز پیش کیا جائے گا، جو آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ عام بجٹ اتوار کو پیش کیا جا رہا ہے۔
اب تک وزیرِ خزانہ کی جانب سے آمدنی ٹیکس اور جی ایس ٹی میں نمایاں کٹوتیوں، بنیادی ڈھانچے پر اخراجات اور ریزرو بینک کی شرحِ سود میں کمی نے ہندوستانی معیشت کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستانی اشیا پر عائد کیے گئے پچاس فیصد بھاری محصولات کے باوجود سنبھالے رکھا ہے، تاہم اب ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے نئے اقدامات کریں۔
مالی سال۲۰۲۷کا بجٹ ایک پیچیدہ پس منظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ داخلی طلب مستحکم رہی ہے اور مہنگائی حالیہ بلند سطح سے نیچے آئی ہے، تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بڑے مرکزی بینکوں کی غیر ہموار مالیاتی نرمی مستقبل کے منظرنامے کو دھندلا رہی ہے۔ اندرونِ ملک حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ کھپت میں اضافہ کرے، روزگار کے مواقع تیز کرے اور سرمایہ جاتی اخراجات بڑھائے، جبکہ مالی خسارے کو بھی بتدریج کم رکھا جائے۔
تاہم ٹیکس میں دی گئی رعایتوں نے سرکاری آمدنی کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث نئے بجٹ میں معیشت کو سہارا دینے کے لیے وزیرِ خزانہ کے اختیارات محدود ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایک نئے ترقیاتی محرک کی تلاش ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت شدید غیر یقینی اور تقسیم کا شکار ہے، مالی منڈیاں دباؤ میں ہیں اور عالمی اجناس کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ وزیرِ خزانہ کو قلیل مدت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا مشکل کام بھی درپیش ہے، کیونکہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال نے مالی منڈیوں کو بے چین کر دیا ہے، غیر ملکی سرمایہ کار مسلسل ہندوستانی حصص فروخت کر رہے ہیں اور روپیہ ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ وزیرِ خزانہ آمدنی بڑھانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل جیسے آزمودہ ذرائع کا سہارا لے سکتی ہیں۔ بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے پہلے دستیاب محدود وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ایندھنوں پر محصول میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ توقع ہے کہ اس اضافے کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جائے گا بلکہ اسے اس قیمت میں کمی کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جائے گا جو گزشتہ برس عالمی تیل کی قیمتیں کم ہونے پر مناسب تھی۔وزیرِ خزانہ ضابطوں کو آسان بنانے اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے پر بھی توجہ دے سکتی ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔
مالی دباؤ کے باوجود اخراجات میں کٹوتی کا امکان کم ہے اور انتخابی مرحلے میں داخل ہونے والی ریاستوں، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور آسام، کے لیے نئی اسکیمیں شامل کی جا سکتی ہیں، جبکہ بعض موجودہ اسکیموں کو نئے انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
سرمایہ جاتی اخراجات بجٹ کا مرکزی ستون بنے رہنے کی توقع ہے۔ گزشتہ برسوں میں حکومت نے سڑکوں، ریلوے، دفاعی پیداوار، شہری بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس پر اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری کو متحرک کیا جا سکے۔
مالی سال۲۰۲۷کے لیے ماہرین ایک اور بامعنی اضافے کی توقع کر رہے ہیں، اگرچہ وبا کے بعد والے دور کے مقابلے میں رفتار نسبتاً متوازن ہو سکتی ہے۔ ریلوے، قابلِ تجدید توانائی، بجلی کی ترسیل، دفاع اور شہری نقل و حمل کو ترجیحی شعبے سمجھا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی سطح کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بغیر سود قرضوں کے ذریعے مدد جاری رہنے کا امکان ہے۔
ٹیکس کے محاذ پر بڑی تبدیلیوں کا امکان کم ہے۔ حکومت بارہا استحکام اور پیش گوئی کے قابل نظام کی ترجیح کا عندیہ دے چکی ہے، خاص طور پر براہِ راست ٹیکسوں میں۔ آمدنی ٹیکس میں ممکنہ تبدیلیاں محدود نوعیت کی ہو سکتی ہیں، جن کا مقصد متوسط طبقے پر بوجھ کم کر کے کھپت کو سہارا دینا ہوگا۔
کارپوریٹ ٹیکس کی شرحوں میں بھی تبدیلی کا امکان نہیں، جبکہ توجہ تعمیل کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل نظام اور اعداد و شمار پر مبنی نفاذ کے ذریعے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنے پر رہے گی۔
روزگار کی فراہمی بجٹ میں نمایاں حیثیت رکھے گی، جس کے تحت محنت طلب صنعتوں، مہارت سازی اور تربیتی پروگراموں سے منسلک مراعات متوقع ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جو بلند پیداواری لاگت اور سخت قرضی حالات سے دوچار ہیں، کے لیے اضافی رقوم یا قرض کی ضمانت کی سہولت بڑھائی جا سکتی ہے۔
پیداواری ترغیبی اسکیموں میں بھی ممکنہ بہتری کی جا سکتی ہے، کیونکہ حکومت ان کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے کہ وہ صنعت، برآمدات اور روزگار پر کس حد تک اثر انداز ہو رہی ہیں۔
توانائی کی منتقلی کے اہداف کے تحت بجٹ میں قابلِ تجدید توانائی، سبز ہائیڈروجن، بیٹری ذخیرہ کاری اور برقی نقل و حمل کے لیے معاونت بڑھائے جانے کی توقع ہے۔ صاف توانائی کے آلات کی مقامی تیاری اور درآمدی انحصار کم کرنے کے لیے بھی اقدامات متوقع ہیں۔
اسی کے ساتھ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر توانائی کے تحفظ کے لیے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے اور اسٹریٹجک ذخائر کے لیے رقوم برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔
اگرچہ یہ انتخابی سال نہیں ہے، تاہم مالی سال۲۰۲۷کا بجٹ آنے والے ریاستی انتخابات کے تناظر میں سیاسی اشاروں کے لیے باریک بینی سے دیکھا جائے گا۔ فلاحی اخراجات اور مالی احتیاط کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک نازک ذمہ داری ہوگی، خاص طور پر دیہی امداد اور ہدفی سبسڈی کے مطالبات کے درمیان۔
مجموعی طور پر توقع ہے کہ مالی سال۲۰۲۷کا بجٹ کسی بڑی حیرت کے بجائے تسلسل پر مبنی ہوگا، جو قلیل مدتی معاشی خطرات سے نمٹتے ہوئے طویل مدتی ترقیاتی حکمتِ عملی کو مضبوط کرے گا۔ منڈیاں اس بات کی یقین دہانی چاہیں گی کہ ہندوستان بلند شرحِ ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی استحکام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا ریسرچ کے ماہرین کے مطابق بجٹ ایک ایسے عالمی منظرنامے میں پیش ہو رہا ہے جو نئی سیاسی حقیقتوں کے اثرات سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق اگر خام تیل مصنوعی طور پر قابو میں رکھی گئی رسد سے نکل کر قیمتوں میں تیزی دکھاتا ہے تو یہ ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس آمدنی میں معمولی اضافہ اور غیر ٹیکس آمدنی میں تقریباً جمود کی توقع ہے، جبکہ حکومتی سرمایہ جاتی اخراجات مالی سال۲۰۲۷میں بارہ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتے ہیں، جو سال بہ سال تقریباً دس فیصد اضافہ ہوگا۔
ڈی بی ایس بینک کے سینئر ماہرِ معاشیات رادھک راؤ کے مطابق جی ایس ٹی کی شرحوں میں اصلاحات، براہِ راست ٹیکس میں رعایت اور کمزور برائے نام ترقی کے باعث خالص ٹیکس وصولیاں مقررہ اہداف سے کم رہ سکتی ہیں۔
ان کے مطابق بجٹ کے اقدامات صنعت کاری اور سماجی بہبود سمیت معیشت کے اسٹریٹجک اہداف سے ہم آہنگ ہوں گے۔ (پی ٹی آئی)










