نئی دہلی، 29 جنوری (یو این آئی) وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ابھرتی ہوئی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کا بروقت جواب دینے اور ایک خصوصی، مربوط اور مستقبل پر مبنی مہارت نظام کے قیام کے لیے ہندوستان اپنے آبادیاتی فائدے (ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ) کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔
جمعرات کو پارلیمنٹ میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پیش کیے گئے اقتصادی سروے 202526 کے مطابق مہارتوں تک رسائی بڑھانے اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک خصوصی اور مربوط مہارت نظام کی ضرورت ہے۔ مہارت پالیسی، تعلیم، لیبر مارکیٹ اور صنعت کے ساتھ ساتھ مختلف شراکت داروں، متعدد اداروں، وزارتوں اور حکومت کے مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی ہے، جس میں طلبہ، اساتذہ، کارکنان، آجرین، ٹریڈ یونینز اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ قریبی تعاون اور شراکت داری مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی آئی سطح پر اصلاحات کے ذریعے مہارت نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد تربیت کے معیار کو بہتر بنانا، صنعت سے مطابقت بڑھانا اور اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ آئی ٹی آئی کو اپ گریڈ کرنے کے لیے قومی منصوبے کی تجویز میں 1,000 سرکاری آئی ٹی آئیز کو جدید بنانے کا عمل شامل ہے، جن میں 200 ہب آئی ٹی آئیز اور اسپوک آئی ٹی آئیز شامل ہیں۔ ان اداروں کو اسمارٹ کلاس رومز، جدید لیبارٹریز، ڈیجیٹل مواد اور صنعت سے ہم آہنگ طویل مدتی اور قلیل مدتی نصاب کے ذریعے اپ گریڈ کیا جائے گا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ نصاب، تربیت، اپرنٹس شپ اور جانچ کے عمل میں صنعتوں کی شمولیت کا مقصد مہارتوں کے اضافے کے ساتھ ساتھ تربیت کی مطابقت اور اعتبار کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ عام روزگار میلہ اور قومی اپرنٹس شپ میلہ آجرین اور روزگار کے متلاشی افراد کے درمیان رابطے کو بہتر بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت ٹیکنالوجی، سبز توانائی، صحت، جدید زراعت، مالی خدمات اور ای۔کامرس کے شعبوں پر توجہ دینا عالمی معیشت میں ابھرتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں ہندوستان کے طویل مدتی ترقی کے محرکات کے لیے مشترکہ کوششوں اور مہارتوں میں تیز سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق اپرنٹس شپ فریم ورک پالیسی سطح پر ساختی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ قومی اپرنٹس شپ فروغ اسکیم (این اے پی ایس) اور قومی اپرنٹس شپ تربیتی اسکیم (این اے ٹی ایس) کو توسیع دے کر مختلف شعبوں اور اداروں کی وسیع حد تک محیط کیا گیا ہے۔ پی ایم۔این اے پی ایس کے تحت 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 43.47 لاکھ سے زائد اپرنٹس منسلک ہیں، جن کی شمولیت 51 ہزار سے زیادہ اداروں میں ہے اور خواتین کی شراکت داری 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ این اے ٹی ایس پروگرام نے بھی مالی سال 2025 میں 5.23 لاکھ اپرنٹس کی شرکت درج کی ہے جو ہندوستان کے اپرنٹس شپ نظام کی بڑھتی ہوئی وسعت اور ادارہ جاتی پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ہندوستان ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہا ہے، ادارہ جاتی ہم آہنگی میں بہتری اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ترغیب، مہارت اور روزگار سے متعلق اقدامات کو مربوط انداز میں نافذ کرنے کے قابل بنائے گی۔ اس سے صنعت پر مبنی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم تیار ہو سکتا ہے، جو روزگار کے لیے تیار ہنر اور مضبوط مہارت۔صنعت روابط کا مرکز بنے گا۔










