آئیووا ،28 جنوری (یو این آئی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست آئیووا میں مڈ ٹرم الیکشن کی مہم شروع کر دی، جس کے دوران دو بار ان کے خلاف احتجاج ہوا، خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خود کو بادشاہ بھی قرار دے دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کو خطاب کے دوران 2 بار احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، آئیووا کے شہر کلائیو میں ہورائزن ایونٹس سینٹر میں حامیوں سے خطاب کے دوران سینکڑوں افراد نے باہر جمع ہو کر ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ جب کہ ریلی میں شریک 2 افراد کو احتجاج پر پولیس نے باہر نکال دیا، ٹرمپ نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والوں کو ڈیموکریٹس نے پیسے دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا آج امریکہ کی دنیا میں جتنی عزت ہے پہلے کبھی نہیں تھی، جاپان، برطانیہ اور آسٹریلیا امریکا میں تاریخی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، میں امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس ریلیف دے رہا ہوں، اور میں عوام کو معاشی رعایتیں دینے والا بادشاہ ہوں، اگر ہم مڈ ٹرم الیکشن ہار گئے تو امریکا بہت کچھ کھو دے گا۔
انھوں نے کہا آج آئیووا سے مڈ ٹرم الیکشن مہم شروع کرنے آیا ہوں، یہ ہم بہ آسانی جیت جائیں گے، اگر ہم مڈ ٹرم الیکشن ہارے تو امریکہ وینزوئیلا بن جائے گا، ڈیموکریٹس الیکشن جیتے تو امریکہ کا بڑا نقصان ہوگا۔ امریکی صدر نے کہا ملک میں ادویات کی قیمتیں کم ترین سطح پر آچکی ہیں، اور بر طرف سرکاری ملازمین آج پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت ملنے پر خوش ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی جانب گامزن ہے اور امید ہے کہ ایران سے ڈیل ہو جائے گی، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا اور امید ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کر لے گا۔








