نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو چار ہفتے کی مہلت دی ہے تاکہ وہ علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کی جانب سے دائر جواب پر اپنا جواب (ریجوائنڈر) داخل کر سکے۔
این آئی اے نے ایک دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں یاسین ملک کو دی گئی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کے لیے اپیل دائر کی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے۲۲؍اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔
یاسین ملک، جو اس وقت تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے این آئی اے پر الزام عائد کیا کہ وہ۲۰۲۳ میں دائر کی گئی اپیل میں مسلسل تاریخیں لے کر ’وقت ضائع‘ کر رہی ہے اور انہیں ’ذہنی اذیت‘ دے رہی ہے۔
اس پر جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دودےجا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی فوری نوعیت (ارجنسی) موجود نہیں ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے’’اس میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ یہ سزا میں اضافہ کرنے کا معاملہ ہے۔ آپ پہلے ہی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں‘‘۔
عدالت نے این آئی اے کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے چار ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے اسے ’آخری موقع‘قرار دیا۔این آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یاسین ملک نے ایجنسی کی اپیل کے جواب میں ایک طویل تحریری جواب داخل کیا ہے، جس میں بعض ایسے نکات بھی شامل ہیں جو اس کیس سے ’متعلق نہیں‘ ہیں، اور اسی وجہ سے جواب کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یاسین ملک کے اس دعوے پر بھی اعتراض کیا کہ این آئی اے بار بار التوا مانگ رہی ہے، اور کہا کہ خود یاسین ملک نے اپیل کے جواب داخل کرنے میں ایک سال کا وقت لیا تھا۔این آئی اے کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ایجنسی اس معاملے کی ان کیمرا (بند کمرہ) سماعت چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے۲۴مئی۲۰۲۲ کو کالعدم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک کو غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ اور بھارتی تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
این آئی اے نے۲۰۲۳میں دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر کے عمر قید کی سزا کو بڑھا کر زیادہ سے زیادہ سزا یعنی سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی۔
ہائی کورٹ میں دائر اپنی اپیل میں این آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ایسے’خطرناک دہشت گردوں‘ کو محض جرم قبول کرنے کی بنیاد پر سزائے موت نہ دی جائے تو سزا کے پورے نظام کو شدید نقصان پہنچے گا اور دہشت گردوں کو سزائے موت سے بچنے کا راستہ مل جائے گا۔
این آئی اے کا کہنا تھا کہ عمر قید کی سزا ان جرائم کے تناسب سے مناسب نہیں ہے، جن میں قوم اور فوجیوں کے اہلِ خانہ نے قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ ٹرائل کورٹ کا یہ نتیجہ کہ یاسین ملک کا کیس ’نایاب ترین‘ زمروں میں نہیں آتا، بادی النظر میں قانونی طور پر غلط اور ناقابلِ جواز ہے۔
این آئی اے کی اپیل کے جواب میں داخل کیے گئے اپنے بیان میں یاسین ملک نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک ریاست کی سرپرستی میں چلنے والے ایک ’بیک چینل‘نظام میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے تحت وہ مختلف وزرائے اعظم، انٹیلی جنس سربراہان اور حتیٰ کہ بڑے صنعت کاروں کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر میں امن کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔
دہلی ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے۸۵صفحات پر مشتمل حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنے اسکولی دور سے لے کر دہشت گردوں سے روابط اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں تک کی تفصیلات بیان کیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست اس شمولیتی عمل کی تاریخ کو ’مٹانے‘ کی کوشش کر رہی ہے۔
یاسین ملک نے کہا’’سیاست میں قربانی کا بکرا بننا کوئی نئی بات نہیں، یہ اب ایک نیا معمول بن چکا ہے، لیکن قربانی کا جانور بنا دیا جانا ایسی چیز ہے جو اخلاقیات کی حدوں سے بھی آگے نکل جاتی ہے اگر سیاست میں کبھی اخلاقیات نام کی کوئی چیز رہی ہو۔‘‘










