جموں: بجٹ اجلاس سے قبل مشاورتی عمل کو جاری رکھتے ہوئے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک تفصیلی مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔
اس اجلاس میں صنعت و تجارت، سیاحت، ہوٹل و ہاسپیٹیلٹی، تعلیم، امورِ نوجوانان اور زراعت سمیت مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
بات چیت کے دوران اسٹیک ہولڈرز نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق متعدد مسائل اٹھائے اور جامع ترقی اور علاقائی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ سے قبل مشاورت کے عمل کی سنجیدگی اور افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں محض رسمی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا’’یہ مشاورتی عمل کئی برسوں سے جاری ہے اور آج ایک بار پھر ہم نے اسے آگے بڑھایا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ محض ایک روایتی مشق محسوس ہو سکتی ہے جس کا زمینی سطح پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا، لیکن یہ تاثر حقیقت سے بہت دور ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی پوری سینئر قیادت کی موجودگی انتظامیہ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
عمرعبداللہ کاکہنا تھا’’اگر ہم آپ کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہ لیتے تو چیف سیکریٹری، سینئر افسران اور کابینہ کے اراکین سمیت پوری حکومتی مشینری یہاں موجود نہ ہوتی۔ ہمارا مقصد آپ سے تفصیل کے ساتھ مشاورت کرنا ہے اور جہاں ممکن ہو، آپ کی آرا کو بجٹ اور پالیسیوں میں شامل کرنا ہے‘‘۔
اسٹیک ہولڈر مشاورت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتیں سرکاری جائزوں اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلے کو کم کرتی ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’دفاتر میں بیٹھ کر ہر چیز جاننا ہمارے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ کئی بار سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات زمینی حقیقت سے مختلف ہوتی ہیں، اور اسی طرح کی بات چیت کے ذریعے ہمیں اصل صورتحال کا بہتر ادراک حاصل ہوتا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے شرکاء کو یقین دلایا کہ یہ مکالمہ سال میں ایک بار تک محدود نہیں رہے گا۔’’یہ کوئی ایک وقتی ملاقات نہیں ہے جس کے بعد آپ ہمیں دوبارہ نہ دیکھیں۔ ہم اس رابطے کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے، کیونکہ اس سے حکمرانی اور عوامی فلاح دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے‘‘۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء کا تعمیری شمولیت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا’’میں آپ کو ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں کہ ہر تجویز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور جہاں تک ممکن ہو، انہیں ہمارے بجٹ فیصلوں اور پالیسی فریم ورک میں شامل کیا جائے گا۔‘‘
اجلاس میں وزراء سکینہ ایتو، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما شریک تھے۔ اس کے علاوہ چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج گپتا، سیاحت اور پاور ڈیولپمنٹ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، پرنسپل سیکریٹری فائنانس، کمشنر سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس، سیکریٹری اسکولی و اعلیٰ تعلیم، ڈائریکٹر جنرل بجٹ، محکمہ خزانہ کے سینئر افسران، مختلف محکموں کے سربراہان اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔










