سرینگر: جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ وادی میں تیز ہواؤں اور بھاری برفباری کے باعث شدید متاثر ہونے والی بجلی کی فراہمی کو بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت وادی میں فعال بجلی لوڈ۱۷۰۰میگاواٹ کے معمول کے مقابلے میں۱۰۰میگاواٹ سے بھی کم رہ گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا’’کے پی ڈی سی ایل کے مطابق وادی میں اس وقت فعال بجلی لوڈ۱۷۰۰میگاواٹ کے معمول کے مقابلے میں۱۰۰میگاواٹ سے بھی کم ہے، جس کی بنیادی وجہ تقریباً تمام۳۳کے وی فیڈرز کا بند ہو جانا ہے، جن میں وہ فیڈرز بھی شامل ہیں جو ایمرجنسی خدمات کو بجلی فراہم کرتے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کی بحالی کے لیے ٹیمیں میدان میں موجود ہیں، تاہم بجلی کی لائنوں پر درختوں کے بڑے پیمانے پر گرنے اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کام میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا’’نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم موجودہ موسمی حالات کے باعث اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے‘‘۔
گزشتہ شب تیز رفتار ہواؤں نے سرینگر سمیت وادی کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں درخت، بجلی کے کھمبے اور چند مقامات پر مکانات کی چھتیں اکھڑ گئیں، جبکہ بجلی کی لائنیں بھی ٹوٹ گئیں۔کچھ علاقوں میں مکانات، دیگر ڈھانچوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سرینگر سمیت وادی کے کئی حصوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی، تاہم بحالی کا کام جاری ہے۔
بعد ازاں سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خراب موسم کے باعث وادی میں تقریباً پورا بجلی کا نظام بند ہو گیا تھا، تاہم محکمہ فوری بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’موسم کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں ہم پہلے کشمیر میں۱۷۰۰میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے تھے، آج صبح یہ صرف۱۰۰میگاواٹ رہ گئی، کیونکہ تیز ہواؤں کی وجہ سے تقریباً پورا نظام بند ہو گیا تھا۔ محکمہ اس پر کام کر رہا ہے اور امید ہے کہ بجلی کا نظام جلد بحال ہو جائے گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برفباری کے بعد حکومت کی اولین ترجیح بجلی، سڑکوں اور پانی کی فراہمی کی بحالی ہے۔
انہوں نے کہا’’سب سے پہلے اہم سڑکوں کو کھولا جا رہا ہے، اس کے بعد بی اور سی کیٹیگری کی سڑکوں سے برف ہٹائی جائے گی۔ مرحلہ وار تمام سڑکیں دوبارہ کھول دی جائیں گی۔ ہماری توجہ بجلی، سڑکوں اور پھر پانی کی فراہمی پر ہے، دیگر امور بعد میں نمٹائے جائیں گے‘‘۔تاہم، انہوں نے سرینگر میں رواں موسم کی پہلی برفباری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس موسم سرما میں برفباری میں تاخیر ہوئی، لیکن دیر آید درست آید۔عمرعبداللہ نے کہا’’ہم اس برفباری کا طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برفباری نہایت اہم ہے کیونکہ اس سے گرمیوں میں لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’’برفباری، خاص طور پر سردیوں میں اور بالخصوص چلہ کلان کے دوران، ہمیں بعد میں فائدہ دیتی ہے۔ چلہ کلان میں پڑنے والی برف گرمیوں میں ہمارے کام آتی ہے۔ اگر برفباری چلہ کلان کے بعد ہوتی ہے تو وہ اچانک پگھل جاتی ہے۔ اس لیے ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس مہینے ہمیں برف ملی ہے، اور دعا کرتے ہیں کہ مزید برفباری ہو‘‘۔
سیاحوں کی آمد میں اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ ظاہر ہے کہ برفباری کے بعد مزید سیاحوں کی آمد متوقع ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ برفباری میں تاخیر کی وجہ سے سیاحت کو کچھ نقصان ہوا، تاہم یہ صورتحال پورے شمالی بھارت میں رہی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’صرف ہم ہی برف سے محروم نہیں رہے، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور دیگر مقامات پر بھی اس بار برفباری نہیں ہوئی تھی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’لیکن آج جو اچھی مقدار میں برف پڑی ہے، میں نے سنا ہے کہ گلمرگ میں دو فٹ سے زیادہ برفباری ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ زیادہ سیاح آئیں گے اور ہم اپنے اسکی کورسز کو بہتر طریقے سے چلا سکیں گے‘‘۔
قبل از بجٹ مشاورت سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمعہ کے روز ایم ایل ایز کے ساتھ بات چیت ہوگی۔انہوں نے کہا’’آج صبح صنعت، باغبانی، زراعت، سیاحت اور اعلیٰ تعلیم سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز اور مشورے ہمیں موصول ہو چکے ہیں۔ ہم انہیں جہاں تک ممکن ہوگا، بجٹ میں شامل کریں گے۔‘‘









