نئی دہلی: ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل اپیندر دویدی نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال میں پہلگام قتل عام کے محض ایک ہفتے کے اندر’ آپریشن سندور‘ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔
فوجی سربراہ نے بتایا کہ پہلی گولی چلنے سے بہت پہلے ہی انفارمیشن وارفیئر (اطلاعاتی جنگ) کے تحت ایک مربوط منصوبہ بندی کر لی گئی تھی، جس کا مقصد دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینا تھا۔
آرمی چیف نے دارالحکومت میں آپریشن سندور پر لکھی گئی کتابRedlines Redrawn کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے بعد فوج کا ٹویٹ’انصاف کر دیا گیا‘ سوشل میڈیا پر تاریخ ساز ثابت ہوا۔
اس ٹویٹ کو اب تک۲۳ملین سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے ، جو اس آپریشن کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کی کامیابی کا ثبوت ہے ۔
جنرل دویدی نے بتایا کہ گزشہ سال ۲۳؍اپریل کو کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس کے بعد ہندوستان نے سخت موقف اختیار کیا ،جن میں سندھ طاس معاہدے کو عارضی طور پر معطل کرنا اور اسلام آباد میں ہائی کمیشن کے عملے میں کٹوتی اور عالمی سطح پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کروانا شامل ہے ۔
آرمی چیف نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اپنی ٹی وی اسکرینوں پر دیکھا کہ کس طرح صرف۲۲منٹ کے اندر تینوں مسلح افواج (بری، بحری اور فضائیہ) نے مل کر دہشت گردوں کے۹ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا۔
ان کاکہنا تھا’’یہ ایک ایسی درست کارروائی تھی جس نے ثابت کر دیا کہ ہندوستان اب فیصلہ سازی میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ ہمارا فیصلہ سازی کا عمل اب دشمن کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز اور مربوط ہو چکا ہے ‘‘۔
جنرل دویدی نے زور دے کر کہا کہ انفارمیشن ڈومین میں کامیابی صرف اسی کی ہوتی ہے جس کا بیانیہ سچائی اور ناقابلِ تردید ثبوتوں پر مبنی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور نے یہ ثابت کر دیا کہ اب تینوں افواج کا اشتراک محض سیمینارز تک محدود نہیں رہا بلکہ ہم نے اسے دباؤ کے تحت میدانِ جنگ میں کامیابی سے کر دکھایا ہے ۔ یہ آپریشن ہندوستانی فوجی تاریخ کا ایک کامیاب ترین مشن قرار دیا جا سکتا ہے ۔









