سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے منگل کے روز دو افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا، جب کشتواڑ ضلع کے چھاترو علاقے میں روپوش دہشت گردوں کا سراغ لگانے کی کارروائی تیسرے دن میں داخل ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق، ان دونوں افراد کے نام پولیس ریکارڈ میں او جی ڈبلیوز (اوور گراؤنڈ ورکرز) کے طور پر درج ہیں۔
یہ پیش رفت پیر کے روز ایک انتہائی منظم انداز میں بنائے گئے زیرِ زمین ٹھکانے کے انکشاف کے بعد سامنے آئی، جو ایک وقت میں چار دہشت گردوں کو پناہ دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس ٹھکانے میں کئی ماہ تک گزارا کرنے کے لیے راشن اور دیگر ضروری اشیا موجود تھیں، جن میں گیس سلنڈر، چولہا اور برتن شامل تھے۔
اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق، سیکورٹی فورسز اور پولیس کا ماننا ہے کہ تقریباً۱۲ہزار فٹ کی بلندی پر واقع، پتھروں سے مضبوط کی گئی دیواروں اور متعدد داخلی و خارجی راستوں پر مشتمل ایسا زیرِ زمین اور محفوظ ٹھکانا مقامی تعاون کے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتا۔ اس خدشے کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ دہشت گردوں کو اتنی بڑی مقدار میں راشن اور دیگر ضروری سامان اس بلندی تک پہنچانے کے لیے مقامی مدد درکار رہی ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ آٹا، باسمتی چاول اور دالوں کے علاوہ سیکورٹی فورسز نے درجن بھر اقسام کے مصالحے، میگی کے پیکٹ، بسکٹ اور خشک میوہ بھی برآمد کیا۔ دہشت گردوں نے سردیوں کے دوران گرم رہنے کے لیے کافی مقدار میں خشک لکڑی بھی ذخیرہ کر رکھی تھی۔
یہ ٹھکانا ایک ایسے بلند مقام پر بنایا گیا تھا جہاں سے دہشت گرد دور سے ہی اپنی جانب آنے والے کسی بھی شخص پر نظر رکھ سکتے تھے۔
ادھر، سینئر پولیس اور سیکورٹی حکام، جن میں انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون بھیم سین توتی اور انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف جموں آر گوپالا کرشنا راؤ شامل ہیں، نے کارروائی کی نگرانی کے لیے انکاؤنٹر سائٹ کا دورہ کیا۔
اتوار کے روز گرینیڈ حملے اور فائرنگ کے دوران آٹھ فوجی زخمی ہو گئے تھے، جن میں اسپیشل فورسز کے حوالدار گجیندر سنگھ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
دہشت گردوں کو باہر نکالنے کے لیے جاری کارروائی، جسے ’ترشی ون‘ کا نام دیا گیا ہے، کے تحت سیکورٹی فورسز اور پولیس نے متعدد سمتوں میں تلاشی مہم شروع کر رکھی ہے۔
حکام کا ماننا ہے کہ جیشِ محمد کے دو گروپ—ایک کی قیادت سیف اللہ اور دوسرے کی قیادت عادل کر رہا ہے، اور دونوں پاکستانی شہری ہیں—گزشتہ دو برس سے چھاترو علاقے میں سرگرم ہیں۔ مجموعی طور پر اندازہ ہے کہ تقریباً۳۵پاکستانی دہشت گرد پہاڑی اضلاع ڈوڈہ اور کشتواڑ کے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
اس دوران جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے پہاڑی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے جاری بڑا آپریشن منگل کو تیسرے روز میں داخل ہوگیا، جس دوران کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے ۔
اتوار کے روز چھاترو کے منڈرل،سنگھ پورہ کے نزدیک سونار گاؤں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی ٹھوس اطلاع پر مشترکہ فورسز نے آپریشن شروع کیا تھا، جو بعد میں جھڑپ میں تبدیل ہو گیا۔ جھڑپ میں فوج جوان جاں بحق جبکہ سات دیگر زخمی ہوگئے ، جن میں زیادہ تر کو دہشت گردوں کی جانب سے اچانک پھینکے گئے گرنیڈ کے چھروں سے چوٹیں آئیں۔
فوجی ذرائع کے مطابق جھڑپ کے بعد دہشت گرد گھنے جنگل میں فرار تو ہوگئے ، تاہم سیکورٹی فورسز نے ان کا ایک مضبوط بنکر نما ٹھکانا تباہ کر دیا۔ اس ٹھکانے سے بڑی مقدار میں راشن، کھانے پینے کا سامان، کمبل، برتن اور دیگر ضروریات زندگی کے سامان برآمد کیے گئے ، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد سردیوں کے مہینوں میں طویل قیام کی تیاری کررہے تھے ۔
آئی جی پی جموں زون بھیم سین تتی، آئی جی سی آر پی ایف جموں آر گوپالا کرشنا راؤاور متعدد فوجی افسران گزشتہ دو روز سے موقع پر موجود رہ کر آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ زمینی صورتحال کا خود جائزہ لے رہے ہیں اور سیکورٹی گرڈ میں مزید مضبوطی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اسی دوران منگل کی صبح جموں کے ستواری میں شہید اسپیشل فورس کمانڈو حوالدار گجندرا سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پر وقار تعزیتی گلباری تقریب منعقد ہوئی۔
وائٹ نائٹ کور کے قائم مقام چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر یدھویر سنگھ نے شہید کو سبز سلامی پیش کی، جس کے بعد ان کے جسد خاکی کو آخری رسومات کے لیے ان کے آبائی ضلع اتراکھنڈ روانہ کیا گیا۔
اس تقریب میں ڈی آئی جی پولیس جموں،کٹھوعہ،سانبہ رینج شیو کمار شرما، ڈپٹی کمشنر جموں راکیش منہاس، اور سی آر پی ایف سمیت بی ایس ایف کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے ۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق منڈرل سنگھ پورہ کے برف پوش پہاڑی علاقوں میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کے بعد پیر کی دوپہر کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔
مشترکہ فورسز ان ممکنہ اوور گراؤنڈ ورکرز کی شناخت کر رہی ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کو بڑی مقدار میں راشن، دالیں، برتن اور دیگر ساز و سامان فراہم کیا تھا۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ آپریشن تراشی ون مسلسل جاری ہے اور گھیرے کو مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ تلاشی کارروائی کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے ۔
فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کے دستے ڈرونز اور کھوجی کتوں کی مدد سے گھنے جنگلات میں شدت پسندوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سے تین دہشت گردجو مبینہ طور پر پاکستانی تنظیم جیشِ محمد سے وابستہ ہیں،اسی علاقے میں روپوش ہیں۔










