جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر ‘فاروق عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ ان کی پارٹی نے بھارت کے ساتھ کھڑے رہنے کے لیے گولیاں کھائی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ نیشنل کانفرنس خطے میں پتھراؤ اور دہشت گردی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کی نئی تقسیم کے مطالبات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہیں ’احمقانہ اور لاعلمی پر مبنی‘قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ۲۰۱۹میں الگ یونین ٹیریٹری بننے والا لداخ مستقبل میں سابق ریاست کے ساتھ دوبارہ متحد ہو سکتا ہے۔
فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں مزید اضلاع بنانے کے امکان کو بھی رد کر دیا۔ انہوں نے پیر پنجال اور چناب وادیوں کے لیے الگ ڈویژن کے مطالبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ڈکسن پلان‘ کا حصہ ہے، جو ستمبر۱۹۵۰میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور آسٹریلیا کے سابق چیف جسٹس سر اوون ڈکسن نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں و کشمیر تنازع کے حل کے لیے پیش کیا تھا۔
یہاں اپنی پارٹی کے بلاک صدور اور سیکریٹریوں کے دو روزہ کنونشن کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے ایک سینئر بی جے پی لیڈر کے مبینہ بیان کو ہنسی میں اڑا دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی بدامنی پر پنپتی ہیں اور خطے میں پتھراؤ اور دہشت گردی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہیں۔
حکمران جماعت کے صدر نے کہا’’اس سے کہیے کہ جو لوگ بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں وہ وہی ہیں، ہم نہیں۔ ہم نے بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے گولیاں کھائی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی کھانے کو تیار ہیں‘‘۔
جب ان سے بعض بی جے پی رہنماؤں کے حالیہ بیانات کے بارے میں پوچھا گیا، جن میں کشمیر سے علیحدہ جموں کے لیے ریاستی درجہ دینے کی بات کی گئی تھی، جس کی حمایت پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون اور سابق میئر سری نگر جنید متو نے کی، توفاروق عبداللہ نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کبھی ایسے خیالات کو جگہ نہیں دی۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم کبھی لداخ کو الگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لداخ کو کیا فائدہ ملا؟ آج لداخ کے لوگ خود کہتے ہیں کہ وہ ریاست کے ساتھ دوبارہ ملنا چاہتے ہیں، وہ یونین ٹیریٹری نہیں چاہتے۔ یہ کیسی باتیں ہیں؟ یہ لوگ احمق اور لاعلم ہیں۔ یہ جموں، کشمیر اور لداخ کی ریاست ہے اور ان شاء اللہ ایک دن لداخ واپس آئے گا‘‘۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے پیر پنجال اور چناب وادیوں کو ڈویژن کا درجہ دینے اور مزید اضلاع بنانے کے مطالبے پر فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر کہا کہ یہ ڈکسن پلان کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا’’ڈکسن پلان بہت پرانا ہے، جس میں چناب دریا کے ساتھ ریاست کو تقسیم کر کے گریٹر کشمیر بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔ لیکن پرمار صاحب (ہماچل پردیش کے پہلے وزیر اعلیٰ وائی ایس پرمار) نے کسی بھی تقسیم کی مخالفت کی تھی۔ بہت سے لوگ ریاست کو توڑنا چاہتے ہیں، لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ مزید اضلاع بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور موجودہ اضلاع ہی کافی ہیں، بس بہتر انتظامیہ کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی کے بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے ان کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی اور ان کے والد مفتی محمد سعید کے دورِ حکومت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ دوسروں پر تنقید کرنا آسان ہے لیکن اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو غزہ میں پائیدار امن کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بننے کی دعوت کے بارے میں سوال پر عبداللہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پرانا تعلق ہے، اگرچہ اس میں کچھ رکاوٹیں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا’’لیکن ان شاء اللہ دوستی بحال ہوگی اور ہم آگے بڑھیں گے‘‘۔
پاکستان کے ساتھ بات چیت کے سوال پر فاروق عبداللہ نے میڈیا پر ’پاکستان فوبیا‘ کا الزام لگایا اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اس قول کا حوالہ دیا کہ ہمسایوں کو بدلا نہیں جا سکتا۔انہوں نے پاکستان کو ’لاپرواہ‘ کہے جانے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاپروائی کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہوتی۔ (ایجنسیاں)










