جموں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل پری بجٹ مشاورتی میٹنگوں کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اہم محکموں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کی صدارت کی۔ اسمبلی کا بجٹ اجلاس۲ فروری سے شروع ہونے والا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے محکموں کی ترجیحات کا جائزہ لیا، عوامی ضروریات کا اندازہ لگایا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام تجاویز کو جموں و کشمیر کے مجموعی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ رکھا جائے۔ انہوں نے عوام مرکز اقدامات، مؤثر خدمات کی فراہمی اور جامع ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی تاکہ تمام خطوں میں متوازن ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو وزیر خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے بجلی ترقی، ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ، خزانہ، ریونیو، جنرل ایڈمنسٹریشن، قانون، انصاف و پارلیمانی امور، سیاحت، اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد محکموں کے ساتھ تفصیلی غور و خوض کیا۔
ان میٹنگوں میں چیف سیکریٹری اٹل دولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیراج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری سیاحت آشیش چندر ورما، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پاور ڈیولپمنٹ شیلندر کمار، پرنسپل سیکریٹری خزانہ سنتوش ڈی ویدیا، ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ، جنرل ایڈمنسٹریشن، اطلاعات، ریونیو، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قانون، انصاف و پارلیمانی امور کے انتظامی سیکریٹریز کے علاوہ محکمہ خزانہ کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ عہدیداران نے شرکت کی۔
پری بجٹ مشاورتی عمل۲۱؍اور۲۲جنوری کو مزید۱۵؍اہم محکموں کے ساتھ جاری رہے گا۔
جموں و کشمیر کا اگلے مالی سال کا بجٹ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ۶فروری کو اسمبلی میں پیش کریں گے۔ یہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا جانے والا دوسرا بجٹ ہوگا۔










